ملفوظات (جلد 7) — Page 94
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۹۴ جلد ہفتم کے اسوہ حسنہ کو چھوڑ دیتے ہیں اور پھر سبز پوش یا گیروے پوش فقیروں کی خدمت میں جاتے ہیں کہ وہ پھونک مار کر کچھ بنا دیں۔ یہ بیہودہ بات ہے۔ ایسے لوگ جو شرعی امور کی پابندیاں نہیں کرتے اور ایسے بیہودہ دعوے کرتے ہیں وہ خطرناک گناہ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے بھی اپنے مراتب کو بڑھانا چاہتے ہیں کیونکہ ہدایت دینا اللہ تعالیٰ کا فعل ہے اور وہ مشت خاک ہو کر خود ہدایت دینے کے مدعی ہوتے ہیں ۔ اصل راہ اور گر خداشناسی کا دعا ہے اور پھر صبر کے ساتھ دعاؤں میں لگار ہے۔ ایک پنجابی فقرہ ہے ۔ ع جو منگے سو مر رہے مرے سو منگن جا حقیقت میں جب تک انسان دعاؤں میں اپنے آپ کو اس حالت تک نہیں پہنچا لیتا کہ گویا اس پر موت وارد ہو جاوے۔ اس وقت تک باب رحمت نہیں کھلتا۔ خدا تعالیٰ میں زندگی ایک موت کو چاہتی ہے۔ جب تک انسان اس تنگ دروازہ سے داخل نہ ہو کچھ نہیں ۔ خدا جوئی کی راہ میں لفظ پرستی سے کچھ نہیں بنتا بلکہ یہاں حقیقت سے کام لینا چاہیے ۔ جب طلب صادق ہوگی تو میں یقین رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اسے محروم نہ کرے گا۔ سائل ۔ استقامت بھی تو ملنی چاہیے۔ حضرت اقدس ۔ ہاں یہ سچ ہے کہ استقامت ہونی چاہیے اور یہ استقامت بھی اللہ تعالیٰ کے فضل اور کرم ہی سے ملتی ہے۔ ایک ادنی درجہ کا فقیر بھی ایک بخیل سے بخیل انسان کے دروازے پر جب دھر نا مارتا ہے تو کچھ نہ کچھ لے کر ہی اٹھتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ تو کریم رحیم خدا ہے ۔ یہ ناممکن ہے کہ کوئی اس کے دروازہ پر گرے اور خالی اٹھے۔ اگر چاہتے ہو کہ ساری مرادیں پوری ہو جاویں تو یہ تو اس کے ہی فضل سے ہوں گی ۔ بعض اوقات انسان کو یہ بھی دھوکا لگتا ہے کہ فلاں مراد پوری نہیں ہوئی ۔ حالانکہ بات یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ احتیاج سے ہی انسان کو بری کر دیتا ہے۔ لکھا ہے کہ ایک بادشاہ کا گذر ایک فقیر پر ہوا جس کے پاس صرف ستر پوشی کو چھوٹا سا پارچہ تھا مگر وہ بہت خوش تھا۔ بادشاہ نے اس سے پوچھا کہ تو اس قدر خوش کیوں ہے؟ فقیر نے جواب دیا کہ