ملفوظات (جلد 6) — Page 89
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۸۹ جلد اپنی اولاد سے معاملہ کرتے ہو ویسے ہی آپس میں بھائیوں سے کرو جس کے اخلاق اچھے نہیں ہیں مجھے اس کے ایمان کا خطرہ ہے کیونکہ اس میں تکبر کی ایک جڑ ہے اگر خدا راضی نہ ہو تو گویا یہ برباد ہو گیا پس جب اس کی اپنی اخلاقی حالت کا یہ حال ہے تو اسے دوسرے کو کہنے کا کیا حق ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کا یہی مطلب ہے کہ اپنے نفس کو فراموش کر کے دوسرے کے عیوب کو نہ دیکھتا رہے بلکہ چاہیے کہ اپنے عیوب کو دیکھے چونکہ خود تو وہ پابندان امور کا نہیں ہوتا اس لیے آخر کار لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ (الصف: (۳) کا مصداق ہو جاتا ہے ۔ اخلاص اور محبت سے کسی کو نصیحت کرنی بہت مشکل ہے تقویٰ حاصل کرنے کا طریق لیکن بعض وقت نصیحت کرنے میں بھی ایک پوشیدہ بغض اور کبر ملا ہوا ہوتا ہے اگر خالص محبت سے وہ نصیحت کرتے ہوتے تو خدا ان کو اس آیت کے نیچے نہ لاتا بڑا سعید وہ ہے جو اول اپنے عیوب کو دیکھے ان کا پتا اس وقت لگتا ہے جب ہمیشہ امتحان لیتا رہے یا درکھو کہ کوئی پاک نہیں ہو سکتا جب تک خدا اسے پاک نہ کرے جب تک اتنی دعا نہ کرے کہ مر جاوے تب تک سچی تقوی حاصل نہیں ہوتی اس کے لیے دعا سے فضل طلب کرنا چاہیے ۔اب سوال ہو سکتا ہے کہ اسے کیسے طلب کرنا چاہیے تو اس کے لیے تدبیر سے کام لینا ضروری ہے جیسے ایک کھڑ کی سے اگر بد بو آتی ہے تو اس کا علاج یہ ہے کہ یا اس کھڑکی کو بند کرے یا بد بودار شے کو اٹھا کر دور پھینک دے پس کوئی اگر تقویٰ چاہتا ہے اور اس کے لیے تدبیر سے کام نہیں لیتا تو وہ بھی گستاخ ہے کہ خدا کے عطا کردہ قومی کو بے کار چھوڑتا ہے ہر ایک عطاء الہی کو اپنے محل پر صرف کرنا اس کا نام تدبیر ہے جو ہر ایک مسلمان کا فرض ہے ہاں جو نری تدبیر پر بھروسہ کرتا ہے وہ بھی مشرک ہے اور اسی بلا میں مبتلا ہو جاتا ہے جس میں یورپ ہے۔ تدبیر اور دعا دونوں کا پورا حق ادا کرنا چاہیے۔ تدبیر کر کے سوچے اور غور کرے کہ میں کیا شے ہوں ؟ فضل ہمیشہ خدا کی طرف سے آتا ہے ہزار تد بیر کرو ل البدر میں یہاں جگہ چھوٹی ہوئی ہے جو کا تب سے لکھنی رہ گئی ہے اور وہ آیت یہ معلوم ہوتی ہے ( آتا مُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ أَنْفُسَكُم ) ( البقرة : ۴۵) (مرتب)