ملفوظات (جلد 6) — Page 84
ملفوظات حضرت مسیح موعود لد کی مصیبت اور دکھ میں ان کا رجوع خدا تعالیٰ ہی کی طرف ہوتا ہے خدا تعالیٰ کے انعامات انہی کو ملتے ہیں جو استقامت اختیار کرتے ہیں۔ خوشی کے ایام اگر چہ دیکھنے کو لذیذ ہوتے ہیں مگر انجام کچھ نہیں ہوتا رنگ رلیوں میں رہنے سے آخر خدا کا رشتہ ٹوٹ جاتا ہے خدا کی محبت یہی ہے کہ ابتلا میں ڈالتا ہے اور اس سے اپنے بندے کی عظمت کو ظاہر کرتا ہے مثلاً کسری اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی گرفتاری کا حکم نہ دیتا تو یہ معجزہ کہ وہ اسی رات مارا گیا کیسے ظاہر ہوتا اور اگر مکہ والے لوگ آپ کو نہ نکالتے تو فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مبينا (الفتح: ۲) کی آواز کیسے سنائی دیتی ہر ایک معجزہ ابتلا سے وابستہ ہے غفلت اور عیاشی کی زندگی کو خدا سے کوئی تعلق نہیں ہے کامیابی پر کامیابی ہو تو تضرع اور ابتہال کا رشتہ تو بالکل رہتا ہی نہیں ہے حالانکہ خدا تعالیٰ اسی کو پسند کرتا ہے اس لیے ضرور ہے کہ درد ناک حالتیں پیدا ہوں۔ اس کے بعد عالی جناب محمد ابراہیم خان صاحب بن موسیٰ خان صاحب برادر زادہ مراد خان صاحب مرحوم آمده از کراچی اور خان صاحب گلزار خان اور دیگر چند ایک احباب نے بیعت کی۔ بعد بیعت حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ذیل کی تقریر فرمائی ۔ نو مبایعین کے لئے نصیحت ضروری نصیحت یہ ہے کہ ملاقات کا زمانہ بہت تھوڑا ہے خدا معلوم بعد جدائی کے دوبارہ ملنے کا اتفاق ہو یا نہ ہو یہ دنیا ایسی جگہ ہے کہ دم کا بھروسہ نہیں ہے اگر رات ہے تو کل کے دن کی زندگی کا علم نہیں ہے اگر دن ہے تو رات کی زندگی کی خبر نہیں اسی لیے سمجھنا چاہیے کہ اس سلسلہ کے دو حصے ہیں ۔ ایک حصہ تو عقائد کا ہے مختصراً یا د رکھو کہ جو بدعات ان میں حال کے لوگوں یا درمیانی لوگوں نے ملا دیئے ہیں ان سے پر ہیز کیا جاوے یہ تصرف اسی قسم کا ہے کہ کچھ تو بدعات تک رہا ہے اور کچھ اس سے بڑھ کر شرک ہو گیا ہے جیسے عیسی کو ایک خاص خصوصیت کل بنی نوع انسان وانبیاء اور رسل سے دی جاتی ہے اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے باہر رکھا جاتا ہے جس سے آپ کی بڑی تو ہین لازم آتی ہے حالانکہ آپ خاتم الانبیاء ہیں اور جب عائشہ سے پوچھا گیا کہ آپ کے اخلاق کیا ہیں؟ تو اس نے کہا قرآن شریف آپ کا خلق ہے جیسے عیسائی لوگ مسیح کی تعظیم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی