ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 76 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 76

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۷۶ گذشتہ نسلوں نے نہ دیکھی ہوگی اور بہت سے لوگ ہیں جو ان نشانات اور آیات سے فائدہ اُٹھا رہے ہیں کوئی دن نہیں جاتا کہ لوگ بذریعہ خطوط یا خود حاضر ہو کر داخل بیعت نہیں ہوتے اگر چہ دنیا میں فسق و فجور اور شوخی و آزادی ، خودروی بہت بڑھ گئی ہوئی ہے تاہم یہ لوگ جو ہمارے سلسلہ میں آتے ہیں یہ بھی اسی جماعت میں سے نکل نکل کر آتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سعید بھی انہی میں ملے ہوئے ہیں۔ خدا تعالیٰ ان لوگوں کو نکال لے گا اور ان کو سمجھ دے گا اور کچھ طاعون کا نشانہ ہو جائیں گے اسی طرح پر دنیا کا انجام ہوگا اور اتمام حجت ہوگی ۔ لے ہے اس مقام پر جناب محمد ابراہیم خان صاحب بن حاجی موسیٰ خان برادر زادہ خان بہادر مراد خان مرحوم نے کراچی ( علاقہ سندھ ) کا ذکر کیا کہ وہاں کے لوگ بہت غافل ہیں اور ان کو ان باتوں کا علم ہی نہیں ہے۔ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ مطلق جاہل سے انسان گھبرا جاتا ہے۔ بہر حال کچھ تو پڑھے لکھے وہاں ہیں اور انگریزی تعلیم کا سلسلہ جاری ہے اگر چہ انگریزوں کی تعلیم کا مضر اثر کتنا ہی کیوں نہ ہو گر تاہم یہ فائدہ ضرور ہے کہ فہم میں وسعت اور باتوں کے سمجھنے کی استعداد پیدا ہو جاتی ہے اور ہمیں ایسے ہی آدمیوں کی ضرورت ہے۔ رفتہ رفتہ پیدا ہو ہی جاویں گے۔ وحشی لوگ جن کو کھانے پینے کے سوا اور کوئی کام نہیں ہے ان سے انسان کیا کلام کر سکتا ہے۔ اس تعلیم یافتہ گروہ پر اگرچہ دنیا کا حجاب ہے مگر تا ہم سعید فطرت لوگ سمجھ سمجھ کر ہماری طرف آرہے ہیں ۔ اب ہماری جماعت کا ایک حصہ انہی میں سے ہے۔ ہم خود تو کسی کو یہاں بیٹھے ہوئے بلا نہیں رہے آخر خود ہی سمجھ کر آ رہے ہیں۔ غرضیکہ فہم اور عقل والے پر بڑی امید ہوتی ہے۔ نرے ڈنگر (بیل) سے انسان نے کیا بات ے یہاں تک کی ڈائری الحکم سے لی گئی ہے۔ اس کے بعد اسی تاریخ یعنی ۲۱ رفروری ۱۹۰۴ ء کی ڈائری البدر سے درج کی جاتی ہے۔ کیونکہ الحکم میں بقیہ ڈائری کہیں درج نہیں ۔ (مرتب) الحکم جلد ۸ نمبر ۸ مورخه ۱۰ مارچ ۱۹۰۴ ء صفحه ۹۰۸