ملفوظات (جلد 6) — Page 69
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۶۹ جلد تھی کہ یہ وبا آنے والی ہے ویسے ہی ابھی یہ خوفناک عذاب بمبئی ہی میں پھیلا ہوا تھا جو مجھ پر ظاہر کیا گیا کہ یہ وبا سارے پنجاب میں پھیل جائے گی۔ اس پر نا عاقبت اندیش لوگوں نے ہنسی اور ٹھٹھے اُڑائے۔ مگر اب دیکھ لو کوئی جگہ ایسی نہیں جو اس سے خالی ہو اور اگر کوئی جگہ ایسی ہے بھی تو اس کے ارد گرد آگ لگی ہوئی ہے اس کے محفوظ رہنے کا کوئی معاہدہ نہیں ہو چکا۔ حقیقت میں یہ بڑے ہی اندیشہ اور فکر کی بات ہے جبکہ کوئی علاج بھی اس کا کارگر نہیں ہوا اور زمینی تدابیر میں ناکامی ہوئی ہے تو پھر کس قدر ضروری ہے کہ لوگ سوچیں کہ یہ بلا کیوں آئی ہے اور اس کا علاج کیا ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے جب تک لوگ سچی توبہ اور رجوع الی اللہ نہیں کرتے اور ان شوخیوں اور شرارتوں سے باز نہیں آتے جو خدا کی باتوں سے کی جاتی ہیں یہ عذاب پیچھا چھوڑتا نظر نہیں آتا لیکن جب انسان تو بہ اور استغفار کرتا ہے اور اپنے اندر ایک پاک تبدیلی کا نمونہ دکھاتا ہے تو پھر خدا بھی رجوع برحمت کرتا ہے مگر میں دیکھتا ہوں کہ ابھی تک کوئی تبدیلی نہیں ہوئی اسی طرح فسق و فجور کا بازار گرم ہے اور قسم قسم کے گناہ اس زمین پر ہو رہے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابھی عذاب الہی کی طیاریاں ہو رہی ہیں۔ پہلی کتابوں میں بھی اس وبا کے متعلق اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ قیامت کے قریب عام مری پڑے گی سواب وہ دن قریب آگئے ہیں اور مری پڑ رہی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اب زمانہ کا آخر ہے۔ اس بات کو مکرر یا د رکھو کہ جب بخل و حسد اور فسق و فجور کی زہریلی ہوا پھیل جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی محبت سرد ہو جاتی ہے اور جس طرح پر اللہ تعالیٰ سے ہراساں وتر ساں ہونا چاہیے وہ نہیں رہتا۔ یہ ہوا ایسی ہی ہوتی ہے جیسے بعض اوقات ہیضہ کی زہریلی ہوا پھیلتی ہے اور تباہ کرتی جاتی ہے اس وقت بعض تو ایسے ہوتے ہیں جو اس میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور بعض جو بچ رہتے ہیں ان کا بھی یہ حال ہوتا ہے کہ صحت درست نہیں رہتی ۔ ہاضمہ کا فتور یا اور اسی قسم کی خرابیاں ہوا سے متاثر ہو کر پیدا ہو جاتی ہیں۔ اسی طرح پر جب گناہ کی وبا پھیلتی ہے تو بعض تو اس میں بالکل ہلاک ہو جاتے ہیں اور جو بچ رہتے ہیں ان کی بھی روحانی صحت میں فرق آ جاتا ہے۔ سو یہی حال اب ہو رہا ہے۔ اکثر ہیں جو کھلے طور پر