ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 67 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 67

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۶۷ جلد ششم بعض اوقات انسان دوسرے پر عیب لگا کر خود اس میں گرفتار ہو جاتا ہے اگر وہ عیب اس میں نہیں لیکن اگر وہ عیب سچ مچ اس میں ہے تو اس کا معاملہ پھر خدا سے ہے۔ بہت سے آدمیوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ اپنے بھائیوں پر معانا پاک الزام لگا دیتے ہیں۔ ان باتوں سے پر ہیز کرو۔ بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچاؤ اور اپنے بھائیوں سے ہمدردی کرو۔ کے ہمسایوں سے نیک سلوک کرو۔ اور اپنے بھائیوں سے نیک معاشرت کرو اور سب سے پہلے شرک سے بچو کہ یہ رو اور اپنے بھے تقویٰ کی ابتدائی اینٹ ہے۔ ۲۱ فروری ۱۹۰۴ء (بوقت ظهر) مقدمات کے تذکرہ پر حضور اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ ابتلا اور دشواریاں انبیاء ورسل کے سوال پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ درمیان میں ہمیشہ مکروہات آجایا کرتے ہیں طرح طرح کی ناکامیاں پیش آتی ہیں ۔ زُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا ( الاحزاب : ۱۲) سے معلوم ہوتا ہے کہ حد درجہ کی ناکامی کی صورتیں پیدا ہو جاتی ہیں لیکن یہ شکست اور ہزیمت نہیں ہوا کرتی ۔ ابتلا میں مامور کا صبر و استقلال اور جماعت کی استقامت اللہ تعالیٰ دیکھتا ہے وہ خود فرماتا ہے كَتَبَ اللهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِى (المجادلة : ۲۲ ) لفظ كَتَبَ سنّت اللہ پر دلالت کرتا ہے یعنی یہ خدا کی عادت ہے کہ وہ اپنے رسولوں کو ضرور ہی غلبہ دیا کرتا ہے۔ درمیانی دشواریاں کچھ شے نہیں ہوتیں اگر چہ وہ ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْأَرْضُ (التوبة : ۱۱۸) کا مصداق ہی کیوں نہ ہوں ۔ پنجاب میں جو خدمت گورنمنٹ کی ہم سے ہوئی ہے اس کی کوئی نظیر نہیں ہے جسمانی طور پر بھی دیکھ لو کہ مایوسی کی حالت میں ہمارے خاندان نے وو ل البدر میں ہے۔ برد باری اختیار کرو۔ بیویوں سے عمدہ معاشرت کرو۔ ہمسایوں سے نیک سلوک کرو۔“ البدر جلد ۳ نمبر ۹ مورخہ یکم مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۴) الحکم جلد ۸ نمبر ۸ مورخه ۱۰ مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۸،۷