ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 65 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 65

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۶۵ جلد ششم میں دیکھتا ہوں کہ جماعت میں باہم نزاعیں بھی ہو جاتی اپنے بھائیوں کی پردہ پوشی کرو میں اور معمولی نام سے پر ایک دوسرے نزاع کی عزت پر حملہ کرنے لگتا ہے اور اپنے بھائی سے لڑتا ہے۔ یہ بہت ہی نامناسب حرکت ہے۔ یہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ ایک اگر اپنی غلطی کا اعتراف کرلے تو کیا حرج ہے۔ بعض آدمی ذرا ذراسی بات پر دوسرے کی ذلت کا اقرار کئے بغیر پیچھا نہیں چھوڑتے۔ ان باتوں سے پر ہیز کرنا لازم ہے۔ خدا تعالیٰ کا نام ستار ہے۔ پھر یہ کیوں اپنے بھائی پر رحم نہیں کرتا اور عفو اور پردہ پوشی سے کام نہیں لیتا۔ چاہیے کہ اپنے بھائی کی پردہ پوشی کرے اور اس کی عزت و آبرو پر حملہ نہ کرے۔ ایک چھوٹی سی کتاب میں لکھا دیکھا ہے کہ ایک بادشاہ قرآن لکھا کرتا تھا ایک ملا نے کہا کہ یہ آیت کے غلط لکھی ہے بادشاہ نے اُس وقت اس آیت پر دائرہ کھینچ دیا کہ اس کو کاٹ دیا جائے گا۔ جب وہ چلا گیا تو اُس دائرہ کو کاٹ دیا جب بادشاہ سے پوچھا کہ کیوں کیا تو اس نے کہا کہ دراصل وہ غلطی پر تھا مگر میں نے اس وقت دائرہ کھینچ دیا کہ اس کی دلجوئی ہو جاوے۔ سے یہ بڑی رعونت کی جڑ ، بیماری ہے کہ دوسرے کی خطا پکڑ کر اشتہار دے دیا جاوے۔ ایسے امور البدر سے ابھی تک بہت سے آدمی جماعت میں ایسے ہیں کہ تھوڑی سی بات بھی خلاف نفس سن لیتے ہیں تو ان کو جوش آجاتا ہے حالانکہ ایسے تمام جوشوں کو فرو کرنا بہت ضروری ہے تا کہ حلم اور بردباری طبیعت میں پیدا ہو۔ دیکھا جاتا ہے کہ جب ایک ادنی سی بات پر بحث شروع ہوتی ہے تو ایک دوسرے کو مغلوب کرنے کی فکر میں ہوتا ہے کہ کسی طرح میں فاتح ہو جاؤں ایسے موقع پر جوشِ نفس سے بچنا چاہیے اور رفع فساد کے لیے ادنی ادنی باتوں میں دیده دانسته خود ذلت اختیار کر لینی چاہیے اس امر کی کوشش ہرگز نہ کرنی چاہیے کہ مقابلہ میں اپنے دوسرے بھائی کو ذلیل کیا جاوے۔“ (البدر جلد ۳ نمبر ۹ مورخہ یکم مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۳، ۴) وو کے البدر میں یوں لکھا ہے ۔ یہ لفظ تم نے غلط لکھا ہے۔“ (مرتب) ے البدر میں ہے۔ ”دیکھو اس نے بادشاہ ہو کر ایک غریب ملاں کا دل نہ دکھانا چاہا ۔ وو 66 البدر جلد ۳ نمبر ۹ مورخہ یکم مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۴) ہے البدر میں ہے۔ اپنے بھائی پر فتح پانے کا خیال رعونت کی ایک جڑ ہے اور بڑی بھاری مرض ہے کہ اپنے ایک بھائی کے عیب کے مشتہر کرنے کی ترغیب دلاتی ہے۔“ (البدر جلد ۳ نمبر ۹ مورخہ یکم مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۴)