ملفوظات (جلد 6) — Page 55
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۵ جلد ہوتے۔ بعض کا اتنا ہی کام ہوتا ہے کہ چوپایوں کی طرح کھا پی لینا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اتنا گوشت کھانا ہے۔ اس قدر کپڑا پہننا ہے وغیرہ اور کسی بات کی ان کو پروا اور فکر ہی نہیں ہوتی ۔ ایسے آدمی جب پکڑے جاتے ہیں تو پھر ایک دفعہ ہی اُن کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ لیکن جو لوگ خدمت دین میں مصروف ان کے ساتھ نرمی کی جاتی ہے اس وقت تک کہ جب تک وہ اس کام اور خدمت کو پورا نہ کر لیں ۔ درازی ازی عمر کا نسخہ انسان اگر چاہتا ہے کہ اپنی عمر بڑھاۓ اور بھی عمر پائے تو اُس کو چاہیے کہ جہاں تک ہو سکے خالص دین کے واسطے اپنی عمر کو وقف کرے۔ یہ یاد رکھے کہ اللہ تعالیٰ سے دھوکا نہیں چلتا جو اللہ تعالیٰ کو دغا دیتا ہے وہ یادرکھے کہ اپنے نفس کو دغا دیتا ہے وہ اس کی پاداش میں ہلاک ہو جاوے گا ۔ ۔۔۔۔ پس عمر بڑھانے کا اس سے بہتر کوئی نسخہ نہیں ہے کہ انسان خلوص اور وفاداری کے ساتھ اعلاء کلمۃ الاسلام میں مصروف ہو جاوے اور خدمت دین میں لگ جاوے اور آج کل یہ نسخہ بہت ہی کارگر ہے کیونکہ دین کو آج ایسے مخلص خادموں کی ضرورت ہے۔ اگر یہ بات نہیں ہے تو پھر عمر کا کوئی ذمہ دار نہیں ہے یونہی چلی جاتی ہے۔ ایک صحابی کا ذکر ہے کہ اس کے ایک تیر لگا اور اس سے خون جاری ہو گیا۔ اس نے دعا کی کہ اے اللہ عمر کی تو مجھے کوئی غرض نہیں ہے۔ البتہ میں یہود کا انتقام دیکھنا چاہتا تھا جنہوں نے اس قدر اذیتیں اور تکلیفیں دی ہیں ۔ لکھا ہے کہ اسی وقت اس کا خون بند ہو گیا جب تک کہ وہ یہود ہلاک نہ ہوئے اور جب وہ ہلاک ہو گئے تو خون جاری ہو گیا اور اس کا انتقال ہو گیا۔ کے حقیقت میں سب امراض اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہیں ۔ کوئی مرض اس کے حکم کے بغیر ل البدر میں یہ واقعہ یوں درج ہے۔ ایک صحابی کو جنگ میں تیر لگا۔ وہ اپنی جان سے مایوس ہوئے ۔ اسی وقت خدا سے دعا مانگی اور کہا کہ مجھے عمر کا تو کر نہیں ہے تھوڑی ہو یا بہت۔ مگر جن یہودیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ستایا ہے۔ میں چاہتا تھا کہ اُن سے انتقام لوں ۔ وہ اسی وقت اچھے ہو گئے اور پھر برابر زندہ رہے حتی کہ ان یہودیوں سے انتقام لیا۔ خدا کی قدرت جب انتقام لے چکے تو اسی مقام سے خون جاری ہو گیا اور وہ فوت ہو گئے ۔“ (البدر جلد ۳ نمبر ۸ مورخه ۲۴ فروری ۱۹۰۴ صفحه (۲) 66