ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 47 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 47

ملفوظات حضرت مسیح موعود ے رفروری ۱۹۰۴ ء ۴۷ ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب لاہور سے تشریف لائے تھے۔ حضرت اقدس نے باہر تشریف لاتے ہی ڈاکٹر صاحب سے اپنی ناسازی طبیعت کا ذکر فرمایا۔ اور اسی سلسلہ میں فرمایا۔ عوارض میں اللہ تعالیٰ کی مصلحت انسان کا اصل طبیب اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے اس کو بنایا ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ ہماری کمزوری کا سر یہ ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ مقدر کیا ہوا تھا کہ اس وقت جہاد کے خیالات کو دور کیا جاوے اور ہم کو اس سے الگ رکھنا تھا۔ اس لیے اس نے عوارض اور کمزوری کے ساتھ بھیجا اور یہ بھی کہ اپنی کسی کارروائی پر گھمنڈ نہ ہو بلکہ ہر وقت اللہ تعالی ہی کے فضل کے خواستگار رہیں ۔ نزول کے لفظ میں بھی یہی سر ہے گویا آسمان سے اُترا ہے یعنی سب کام خدا تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوتے ہیں۔ اس میں انسانی دخل نہیں ہے اور جب انسانی ارادوں اور منصوبوں سے الگ ہوئے تو وہ سب امور خارق عادت ٹھہرے۔ عام طور پر بھی کہا کرتے ہیں کہ خدا اُتر کر لڑا ہے مگر تعجب کی بات ہے کہ ہمارے مخالفوں نے سب باتوں کو جسمانی بنالیا ہے۔ ادھر یہ مان لیا ہے کہ وہ دو زرد چادریں پہنے ہوئے اُترے گا۔ ہے معلوم نہیں ان بھگوے کپڑوں کے پہننے سے اس کی کیا غرض ہوگی ۔ یہ چادریں شاید حضرت ادریس وو ے البدر میں ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے کچھ ادویہ ان کے متعلق عرض کیں“ (البدر جلد ۳ نمبر ۷ مورخہ ۱۶ رفروری ۱۹۰۴ صفحه ۴) البدر میں ہے۔ یہ لوگ ظاہر پر حمل کرتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ کا یہ منشا نہیں ہے یہ منتظر ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے آویں اور دو زرد چادریں اوڑھی ہوئی ہوں ایک اوپر اور ایک نیچے لیکن یہ نہیں بتلاتے کہ آیا وہ چادریں آسمان پر ہی رنگی جاویں گی یا یہاں سے ہی فرشتے لے کر آسمان پر پہنچادیں گے اور وہ اوڑھ کر نیچے اتریں گے ان چادروں سے مراد امراض ہیں اور یہی دونوں امراض ہمیں لگی ہوئی ہیں نیچے کی چادر سے مراد پیشاب کی بیماری ہے لگی کی سے مراد کی ہے اور اوپر سے مراد سر کی بیماری ہے ان دونوں میں میں ہمیشہ مبتلا رہتا ہوں ۔ 66 البدر جلد ۳ نمبر۷ مورخه ۱۶ رفروری ۱۹۰۴ صفحه (۴)