ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 40 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 40

ملفوظات حضرت مسیح موعود لد ۔ اس وقت فرمائی تھی جس سے ان کے اکثر شبہات و شکوک کا قلع قمع ہوا تھا۔ انہیں کا ذکر ہوتا رہا کسی کی طرف سے یہ اعتراض بھی پیش ہوا کہ ان کے ایک مصاحب نے یہ کہا ہے کہ ابھی مہدی ومسیح کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ لوگ نمازیں پڑھتے ہیں۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ عام طور پر دلوں میں دہریت گھر کر گئی ہے۔ لاکھوں مسلمان عیسائی ہو گئے ہیں۔ صلیبی فتنہ بڑھ رہا ہے۔ اگر اب بھی ضرورت نہیں تو کیا یہ چاہتے ہیں کہ اسلام کا نام ونشان نہ رہے اس کی تو وہی مثال ہے کہ ایک میت موجود ہو اس میں روح کا نام ونشان نہ ہو اور صرف اس کے آنکھ، کان، ناک وغیرہ اعضا دیکھ کر کہا جائے کہ یہ میت نہیں ہے۔ اگر نہیں ہے تو اور چار دن رکھ کر دیکھ لو جب سڑے گا اور بد بو پھیلے گی تو خود پتا لگ جائے گا کہ روح کا نام و نشان نہیں صرف پوست ہی پوست ہے۔ ابھی کہتے ہیں کہ ضرورت نہیں ۔ اہل تشیع کو جو محبت حضرت امام حسین سے ہے اور آپ کے واقعہ شہادت کو سن کر جس طرح ان کے جگر پارہ پارہ ہوتے ہیں اس میں سے تکلف اور تصنع کو دور کر کے باقی ان لوگوں کے حق میں جو دلی خلوص سے امام صاحب سے محبت رکھتے ہیں اور ان کی شان میں ہر ایک قسم کے غلو کو معیوب قرار دیتے ہیں۔ فرمایا کہ اس سے ہم منع نہیں کرتے کہ کوئی کسی بزرگ کی محبت یا جدائی میں آنسوؤں سے روئے۔ فرمایا کہ ہدایت کے تین طریق ہیں۔ بعض لوگ تو کلمات طیبات سن کر ہدایت پاتے ہیں۔ بعض تہدید کے محتاج ہوتے ہیں بعض کو آسمانی نشان اور تائید نظر آ جاتی ہے کیونکہ شنیده گی بود مانند دیده او اب اس وقت جو خدا دکھلا رہا ہے وہ چشم دید ہے دوسرے نقول ہیں ۔ لے الحکم جلد ۸ نمبر ۶ مورخه ۱۷ رفروری ۱۹۰۴ صفحه ۲