ملفوظات (جلد 6) — Page 425
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۷ جلد براہین میں مندرج پیشگوئیوں کا پورا ہو کر آپ ۱۹۰۴ء میں آپ کی عمر ۶۵ یا ۶۶ سال تھی کی صداقت کی دلیل بننا ۱۶۸ آپ کے عوارض میں الہی حکمتیں ۲۳ ۴۷ زحیر قولنج کی بیماری سے خارق عادت کھانسی کی شدت ولد شفا یابی ۱۴۹ قادیان میں غیر معروف تھے لیکن پھر الہام الہی کے مطابق ساری دنیا میں آپ میرے ایک استاد شیعہ تھے ایک امین اور مشفق ناصح فطر تا خلوت گزینی پسند تھی ۱۷ ۲۵۶ ۲۰۷ مشہور ہو گئے ۱۶۸ ۳۵۷ ۲۶۲ ۲۱۴ ۲۳۸ ۳۲۰ ۲۶۱ ۲۶۳ ۳۶۰ ۲۶۰ ۲۵۰ ۲۶۳ ۱۹۱ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور اس کا وعدہ ہے کہ اگر کوئی چالیس دن میرے عظمت (حاشیہ ) پاس رہے تو وہ ضرور کوئی نشان دیکھ لے گا آپ کے نشانات منہاج نبوت پر ہیں ۱۷ 1۶۶ رضا بالقضا ہمارا سارا دارو مدار دعا پر ہے نشان طلب کرنے والوں کے لیے وضاحت ۱۵۸ ہمارا کام تو رات دن ان (کمزور احمد یوں ) کے لیے دعا اور انتہال میں لگا رہنا ہے آپ کی تائید میں کسوف و خسوف کے نشان کا ظہور ۳۰ میں اپنے دل میں مخلوق کے لیے ہمدردی اور بھلائی کے لیے ایک جوش رکھتا ہوں ہمارا اصول تو یہ ہے کہ ہر ایک سے نیکی کرو اور خدا تعالیٰ کی کل مخلوق سے احسان کرو اگر کسی کو درد ہو اور میں نماز میں مصروف ہوں تو میں چاہتا ہوں کہ اگر نماز توڑ کر بھی اس کو فائدہ پہنچا سکتا ہوں تو پہنچاؤں میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ کسی کی دل آزاری یا استخفاف مذہب کی نیت سے نہیں لکھا اکرام ضيف غرباء کی دلجوئی اور اکرام ایک بڑھیا کی درخواست پر اسے اس کا خط پڑھ کر سمجھانے کا واقعہ عہد دوستی کا پاس ١٦١ ۱۵۸ ۸۲ ۱۵ ۱۶۹ ۴۱ ۱۵۰ ۴۳ پچیس سال سے زائد عرصہ کی مہلت آپ کی صداقت کی دلیل ہے تائید میں بہت سے نشانات مقدمہ کرم دین میں فتح یابی اپنی صداقت پر یقین کامل اپنے مقام کے بارہ میں یقین کامل اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ میں صادق ہوں اور اسی کی طرف سے آیا ہوں سیرت و شمائل اللہ تعالیٰ کی بے نیازی پر پختہ ایمان ہمیں تو بہشت کی ضرورت ہے نہ کسی اور ھے کی ( ہم تو چاہتے ہیں کہ الہی تجلیات ظاہر ہوں ) تجربہ کرنے کی عادت