ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 30 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 30

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۰ اور پتہ بتایا۔ بعض نے تاریخ پیدائش بھی بتائی جو چراغ دین ۱۲۶۸ھ ہے۔ اور اس کے علاوہ وہ نشان جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائے تھے وہ بھی پورے ہو گئے ۔ منجملہ ان کے ایک کسوف و خسوف کا نشان تھا۔ جب تک کہ یہ کسوف و خسوف کا نشان نہیں ہوا تھا یہ مولوی جو اب میری مخالفت کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی تکذیب کر رہے ہیں اس کی سچائی کے قائل تھے اور یہ نشان بتاتے تھے کہ مسیح و مہدی کا یہ نشان ہوگا کہ رمضان کے مہینہ میں سورج ور چاند کو گرہن ہوگا۔ لیکن جب یہ نشان میرے دعوے کی صداقت کی شہادت کے لیے پورا ہو گیا تو پھر جس منہ سے اس کا اقرار کیا کرتے تھے اسی منہ سے انکار کرنے والے ٹھہرے۔ کسی نے تو سرے سے اس حدیث ہی کا انکار کر دیا اور کسی نے اپنی کم سمجھی اور نادانی سے یہ کہہ دیا کہ چاند کی پہلی تاریخ کو گرہن ہونا چاہیے حالانکہ پہلی رات کا چاند تو خود گرہن ہی میں ہوتا ہے اور علاوہ بریں حدیث میں تو قمر کا لفظ ہے جو پہلی رات کے چاند پر بولا ہی نہیں جاتا۔ غرض اس طرح پر جس قدر نشان تھے وہ پورے ہو گئے مگر یہ لوگ ہیں کہ محض میری مخالفت کی وجہ سے خدا تعالیٰ اور اس کے سچے اور پاک رسول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی انکار کر رہے ہیں اور آپ کی تکذیب کی بھی کچھ پروانہیں کرتے۔ ان نشانات اور علامات کے بعد پھر یہ بات بھی دیکھنے کے قابل ہوتی ہے کہ کیا مدعی کے اپنے ہاتھ پر کوئی نشان اس کی تصدیق کے لیے ظاہر ہوا ہے یا نہیں؟ اس کے لیے میں کہتا ہوں کہ اس قدر نشان اللہ تعالیٰ نے ظاہر کئے ہیں کہ ان کی تعداد ایک دو نہیں بلکہ سینکڑوں اور ہزاروں تک پہنچی ہوئی ہے اور اگر میری جماعت کو خدا تعالیٰ کی قسم دے کر پوچھا جائے تو میں امید نہیں کرتا کہ کوئی شخص ایک بھی ایسا نکلے جو یہ کہے کہ میں نے کوئی نشان نہیں دیکھا اور پھر یہ کہ نشانوں کی بارش برس رہی ہے۔ اولیاء اللہ کی اسی لیے حرمت اور تکریم کی جاتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ جو تعلق رکھتے ہیں۔ اس تعلق کا ایک زندہ اور سچا نمونہ پیش کرتے ہیں یعنی خوارق کا صدوران سے ہوتا رہتا ہے اور نشانات ہی سے وہ واجب العزت ہوتے ہیں۔ پھر اس صورت میں مجھے حق ہے کہ وہ لوگ جو میری اس بات سے کہ میں امام حسین سے افضل ہوں گھبراتے ہیں بجائے اس کے کہ مجھ