ملفوظات (جلد 6) — Page 348
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۴۸ باتیں حاصل ہوں گی ۔ اللہ تعالیٰ کے بندوں کی علامات میں سے یہ بھی ایک علامت ہے کہ وہ دنیا سے طبعی نفرت راحت کرتے ہیں۔ پس جو شخص چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہو جاوے اور دہ ہو جاوے اور دنیا اور آخرت کی را۔ اسے مل جاوے وہ یہ راہ اختیار کرے۔ اگر اس راہ کو تو چھوڑتا ہے اور اور راہیں اختیار کرتا ہے تو پھر ٹکریں مار کر دیکھ لے کہ کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔ بہت سے لوگ ہوں گے جن کو یہ نصیحت بری لگے گی اور وہ ہنسی کریں گے لیکن وہ یاد رکھیں کہ آخر ایک وقت آجائے گا کہ وہ ان باتوں کی حقیقت کو سمجھیں گے اور پھر بول اٹھیں گے کہ افسوس ہم نے یونہی عمر ضائع کی لیکن اس وقت کا افسوس کچھ کام نہ دے گا۔ اصل موقع ہاتھ سے نکل جائے گا اور پیغام موت آجائے گا۔ میں پھر کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کو خوش کرنے کی فکر کرو کیونکہ اگر خدا تعالیٰ مہربان ہو جاوے تو پھر ساری دنیا مہربان ہو جاتی ہے لیکن اگر وہ ناراض ہو تو پھر کوئی بھی کام نہیں آ سکتا۔ جب اس کا غضب آگیا تو دنیا میں کوئی مہربان نہ رہے گا خواہ کیسا ہی مکر و فریب کرے ۔ تسبیحیں ڈالے۔ بھگوے اور سبز کپڑے پہنے مگر دنیا اس کو حقیر ہی سمجھے گی ۔ اگر چند روز دنیا دھوکا کھا بھی لے تو بھی آخر اس کی قلعی کھل جائے گی اور اس کا مکر و فریب ظاہر ہو جائے گا لیکن جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے دنیا اس کی کتنی ہی مخالفت کرے وہ اپنی مخالفت اور منصوبوں میں کامیاب نہ ہوگی ۔ اس کو گالیاں دے لعنتیں بھیجے لیکن ایک وقت آجائے گا کہ وہی دنیا اس کی طرف رجوع کرے گی اور اس کی سچائی کا اعتراف اسے کرنا پڑے گا۔ میں سچ کہتا ہوں کہ اللہ جس کا ہو جاتا ہے دنیا بھی اس کی ہو جاتی ہے۔ ہاں یہ صحیح ہے کہ جو لوگ خدا تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں ابتداء اہلِ دنیا ان کے دشمن ہو جاتے ہیں اور اسے قسم قسم کی تکلیفیں دیتے اور اس کی راہ میں روڑے اٹکاتے ہیں۔ کوئی پیغمبر اور مرسل نہیں آیا جس نے دکھ نہ اٹھایا ہو۔ مگار ، فریبی ، دکاندار اس کا نام نہ رکھا گیا ہو مگر باوجود اس کے کہ کروڑ ہا بندوں نے اس پر ہر قسم کے تیر چلانے چاہے، پتھر مارے، گالیاں دیں انہوں نے کسی بات کی پروا نہیں کی۔ کوئی امران کی راہ میں روک نہیں ہو سکا ۔ وہ دنیا کو خدا تعالیٰ کی کلام سناتے رہے اور وہ پیغام جو