ملفوظات (جلد 6) — Page 344
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۴۴ سے سچی مراد یہی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی رضا کے تابع اپنی رضا کرلے ۔ یہ مقام انسان بلند تر مراتب پانے کے لیے دعا کی ضرورت ہے مگر یہ ہے کہ یہ ہے کی اپنی قوت سے کی اپنی قوت سے نہیں مل سکتا۔ ہاں اس میں کلام نہیں کہ انسان کا فرض ہے کہ وہ مجاہدات کرے۔ لیکن اس مقام کے حصول کا اصل اور سچا ذریعہ دعا ہے ۔ انسان کمزور ہے جب تک دعا سے قوت اور تائید نہیں پاتا۔ اس دشوار گذار منزل کو طے نہیں کر سکتا ۔ خود اللہ تعالیٰ انسان کی کمزوری اور اس کے ضعف حال کے متعلق ارشاد فرماتا ہے خُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيفًا (النساء: ۲۹) یعنی انسان ضعیف اور کمزور بنایا گیا ہے پھر باوجود اس کی کمزوری کے اپنی ہی طاقت سے ایسے عالی درجہ اور ارفع مقام کے حاصل کرنے کا دعویٰ کرنا سراسر خام خیالی ہے۔ اس کے لیے دعا کی بہت بڑی ضرورت ہے۔ دعا ایک زبردست طاقت ہے جس سے بڑے بڑے مشکل مقام حل ہو جاتے ہیں اور دشوار گذار منزلوں کو انسان بڑی آسانی سے طے کر لیتا ہے کیونکہ دعا اس فیض اور قوت کے جذب کرنے والی نالی ہے جو اللہ تعالیٰ سے آتا ہے۔ جو شخص کثرت سے دعاؤں میں لگا رہتا ہے وہ آخر اس فیض کو کھینچ لیتا ہے اور خدا تعالیٰ سے تائید یافتہ ہو کر اپنے مقاصد کو پا لیتا ہے۔ ہاں نری دعا خدا تعالیٰ کا منشا نہیں ہے بلکہ اول تمام مساعی اور مجاہدات کو کام میں لائے اور اس کے ساتھ دعا سے کام لے۔ اسباب سے کام لے۔ اسباب سے کام نہ لینا اور نری دعا سے کام لینا یہ آداب الدعا سے نا واقعی ہے اور خدا تعالیٰ کو آزمانا ہے اور نرے اسباب پر گر رہنا اور دعا کو لائے محض سمجھنا یہ دہریت ہے۔ یقیناً سمجھو کہ دعا بڑی دولت ہے۔ جو شخص دعا کو نہیں چھوڑتا اس کے دین اور دنیا پر آفت نہ آئے گی ۔ وہ ایک ایسے قلعہ میں محفوظ ہے جس کے ارد گرد مسلح سپاہی ہر وقت حفاظت کرتے ہیں۔ لیکن جو دعاؤں سے لا پروا ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جو خود بے ہتھیار ہے اور اس پر کمزور بھی ہے اور پھر ایسے جنگل میں ہے جو درندوں اور موذی جانوروں سے بھرا ہوا ہے۔ وہ سمجھ سکتا ہے کہ اس کی خیر ہرگز نہیں ہے۔ ایک لمحہ میں وہ موذی جانوروں کا شکار ہو جائے گا اور اس کی بڑی بوٹی نظر نہ آئے گی ۔ اس لیے یاد رکھو کہ انسان کی بڑی سعادت اور اس کی حفاظت کا اصل