ملفوظات (جلد 6) — Page 27
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۷ جلد ششم ان تینوں معیاروں کو ملا کر جب کسی مامور اور راست باز کی نسبت غور کیا جائے گا تو حقیقت کھل جاتی ہے۔ میرا دعویٰ ہے کہ میں خدا کی طرف سے مامور ہو کر آیا ہوں اب میرے دعوے کو پرکھ کر دیکھ لو کہ آیا یہ ان تین معیاروں کے رو سے سچا ثابت ہوتا ہے یا نہیں۔ سب سے پہلے دیکھنا چاہیے کہ کیا یہ وقت کسی مدعی کی ضرورت کا داعی ہے یا نہیں؟ پس ضرورت تو ایسی صاف ہے کہ اس پر زیادہ کہنے کی ہمیں ضرورت ہی نہیں۔ اسلام پر اس صدی میں وہ وہ حملے کئے گئے ہیں جن کے سننے اور بیان کرنے سے ایک مسلمان کے دل پر لرزہ پڑتا ہے۔ سب سے بڑا فتنہ اس زمانہ میں نصاری کا فتنہ ہے جنہوں نے اسلام کے استیصال کے واسطے کوئی دقیقہ فرو گذاشت ہی نہیں کیا ان کی کتابوں اور رسالوں اور اخباروں اور اشتہاروں کو جو اسلام کے خلاف ہیں اگر جمع کیا جاوے تو ایک بڑا پہاڑ بن جاتا ہے اور پھر تیس لاکھ کے قریب مرتد ہو چکے ہیں۔ اس کے ساتھ آریوں ، برہموؤں اور دوسرے آزاد خیال لوگوں کو ملا لیا جائے تو پھر دشمنانِ اسلام کے حملوں کا وزن اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ اب ایسی صورت میں کہ اسلام کو پاؤں کے نیچے کچلا جارہا ہے۔ کیا ضرورت نہ تھی کہ خدا تعالیٰ اپنے سچے دین کی حمایت کرتا اور اپنے وعدہ کے موافق اس کی حفاظت فرماتا اور اگر عام حالت کو دیکھا جائے تو وہ ایسی خراب ہے کہ اس کے بیان کرنے سے بھی شرم آتی ہے۔ فسق و فجور کا وہ حال ہے کہ علانیہ بازاری عورتیں بدکاری کرتی ہیں۔ معاملات کی حالت بگڑی ہوئی ہے۔ تقویٰ و طہارت اُٹھ گیا۔ وہ لوگ جو اسلام کے حامی اور محافظ شرع متین کہلاتے تھے اُن کی خانہ جنگی اور اپنی عملی حالت کی کمزوری نے اور بھی ستم بر پا کر رکھا ہے عوام جب ان کی حالت بد دیکھتے ہیں تو وہ حدود اللہ کے توڑنے میں اور بھی دلیری سے کام لیتے ہیں۔ غرض اندرونی اور بیرونی حالت بہت ہی خطرناک ہو رہی ہے۔ پھر دیکھنا ہے کہ آیا قرآن شریف اور احادیث صحیحہ میں کسی آنے والے کا وعدہ دیا گیا ہے سوقرآن شریف نے بڑی وضاحت کے ساتھ دو سلسلوں کا ذکر کیا ہے ایک وہ سلسلہ ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے شروع ہوا اور حضرت مسیح علیہ السلام پر آکر ختم ہوا اور دوسر ا سلسلہ جو اسی