ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 25 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 25

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۵ جو وہ اپنے پاک رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے لیے رکھتا ہے جوش میں لانے والا نہ تھا؟ اس کی غیرت نے جوش مارا اور مجھے مامور کیا۔ اس وعدہ کے موافق جو اس نے إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لحٰفِظُونَ (الحجر: ۱۰) میں کیا تھا۔ حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے اس قدر تقریر فرمائی تھی کہ عصر کی اذان ہوگئی اور نواب صاحب اور مشیر اعلیٰ صاحب خاموش ہو گئے ۔ حضرت نے فرمایا کہ اذان میں باتیں کرنی منع نہیں ہیں آپ اگر کچھ اور بات پوچھنا چاہتے ہیں تو پوچھ لیں کیونکہ بعض باتیں انسان کے دل میں ہوتی ہیں اور وہ کسی وجہ سے ان کو نہیں پوچھتا اور پھر رفتہ رفتہ وہ برا نتیجہ پیدا کرتی ہیں۔ جو شکوک پیدا ہوں ان کو فوراً باہر نکالنا چاہیے۔ یہ بری غذا کی طرح ہوتی ہیں اگر نکالی نہ جائیں تو سوء ہضمی ہو جاتی ہے۔ جب یہ حضرت فرما چکے تو سلسلہ کلام حسب ذیل طریق پر شروع ہوا ۔ (ایڈیٹر ) ہوا۔ مشیر اعلیٰ ۔ میرے نزدیک اہم امور یہی تھے جو ان الفاظ کے متعلق میں نے پوچھے ہیں۔ نواب صاحب ۔ حضرت کے اشتہار میں بھی یہی ہے اور زبانی بھی وہی ارشاد فرمایا ہے ۔ حضرت اقدس ۔ دراصل انسان کو بعض اوقات بڑے ہی مشکلات پیدا ہوتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کا فضل اس کے شاملِ حال نہ ہو تو وہ ان مشکلات میں پڑ کر ہدایت اور حقیقت کی راہ سے دور جا پڑتا ہے۔ یہودیوں کو بھی اسی قسم کے مشکلات پیش آئے ۔ اُنہوں نے تو رات میں بھی یہی پڑھا تھا کہ خاتم الانبیاء ان ہی میں ہوگا۔ وہ ان ظاہر الفاظ پر جمے ہوئے تھے۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم وسلا پیدا ہوئے تو ان کو آپ کے قبول کرنے میں بھی دقت اور مشکل پیش آئی کہ خاتم الانبیاء تو ہم میں ہی سے ہو گا مگر ان کو یہی جواب ملا کہ تم نے جو کچھ سمجھا ہے وہ غلط سمجھا ہے۔ آنے والا خاتم الانبیاء بنی اسمعیل میں سے ہو۔ ہونے والا تی والا تھا اور وہ بھی تمہارے بھائی ہیں ۔ تم اس سوال پر مت جھگڑ و بلکہ ضرورت اس امر الحکم جلد ۸ نمبر ۱۱ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۴ ء صفحه ۲، ۳ والبدر جلد ۳ نمبر ۱۶، ۱۷ مورخه ۲۴ را پریل و یکم مئی ۱۹۰۴ء صفحه ۳