ملفوظات (جلد 6) — Page 311
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۱۱ جلد ششم بستیاں بالکل تباہ اور برباد ہو جائیں گی۔ جہاں تک اللہ تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا ہے میں دیکھتا ہوں کہ ابھی بہت خطرناک دن آنے والے ہیں۔ اس لیے میں ہر ایک کو جو سنتا ہے کہتا ہوں کہ دیکھو اس وقت ہر ایک نفس کو چاہیے کہ اپنے نفس، اپنے بیوی بچوں اور دوستوں پر رحم کرے۔ میں خوب جانتا ہوں کہ اللہ تعالی رجوع کرنے والوں پر اپنا فضل کر دیتا ہے اور یہ عذاب ٹل سکتا ہے۔ پس چاہیے کہ ہر شخص کوشش کرے اور سچی توبہ اور پاک تبدیلی کے ساتھ خدا تعالیٰ سے دعائیں مانگے۔ بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ ہمارے سلسلہ میں سے بھی بعض ایک اعتراض کا جواب آدمی طاعون سے مر گئے ہیں۔ ایسے معترضین کو یاد رکھنا چاہیے کہ موت تو ہر نفس کے لیے مقرر ہے اور ایک نہ ایک دن سب کو مر جانا ہے اور طاعون سے صحابہ میں سے بھی بعض شہید ہو گئے تھے۔ غرض موت سے تو چارہ نہیں ۔ امیر، غریب، ہندو، مسلمان، زن ومرد سب مرتے ہیں لیکن کسی موت پر اتنا رحم نہیں آتا جیسا اس موت پر کہ گھر کا گھر تباہ ہو جائے اور قفل لگ جاوے۔ اس لیے اول نسبت قائم کرو کہ ایسی موتیں کن لوگوں میں ہوئی ہیں ۔ اس کے سوا یہ بھی یا درکھو کہ ہماری جماعت میں داخل ہونے والوں کا صحیح علم کہ ان کے ایمان کس درجہ تک ہیں اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ اب دو لاکھ سے بھی زیادہ جماعت ہے ہمیں علم نہیں کہ کس حد تک کس کا ایمان ہے۔ البتہ قیاسی طور پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ بعض کامل الایمان ہیں اور بعض اوسط درجہ کا ایمان رکھتے ہیں اور بعض ابھی ناقص درجہ پر ہیں۔ اللہ مومنوں کے تین درجے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَ مِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرُتِ (فاطر : ۳۳) یعنی تین قسم کے مومن ہوتے ہیں۔ ایک تو ظالِمُ لِنَفْسِہ ہوتے ہیں۔ ان میں گناہ کی آلائش موجود ہوتی ہے۔ بعض میانہ رو اور بعض سراسر نیک ہوتے ہیں۔ اب ہمیں کیا معلوم ہے کہ کون کس درجہ اور مقام پر ہے۔ ہر ایک شخص کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ الگ معاملہ ہے۔ جیسا کوئی اس سے تعلق رکھتا ہے ویسا ہی وہ اس سے معاملہ کرتا ہے جو لوگ کامل الایمان ہیں میں یقین رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اسے امتیاز دے گا کیونکہ مومن اور کافر