ملفوظات (جلد 6) — Page 307
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۰۷ جلد ششم اب واضح رہے کہ جس حال شامت اعمال کی وجہ سے آنے والی بلاؤں کا علاج میں وہ بلائیں جو شامت اعمال کی وجہ سے آتی ہیں اور جن کا نتیجہ جہنمی زندگی اور عذاب الہی ہے ان بلاؤں سے جو ترقی درجات کے طور پر اختیار و ابرار کو آتی ہیں الگ ہیں تو کیا کوئی ایسی صورت بھی ہے جس سے انسان اس عذاب سے نجات پاوے۔ اس عذاب اور دکھ سے رہائی کی بجز اس کے کوئی تجویز اور علاج نہیں ہے کہ انسان سچے دل سے تو بہ کرے۔ جب تک سچی تو بہ نہیں کرتا یہ بلائیں جو عذاب الہی کے رنگ میں آتی ہیں اس کا پیچھا نہیں چھوڑ سکتی ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے قانون کو نہیں بدلتا جو اس بارے میں اس نے مقرر فرمادیا ہے إِنَّ اللهَ لَا يُغَيْرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِم (الرعد: (۱۲) یعنی جب تک کوئی قوم اپنی حالت میں تبدیلی پیدا نہیں کرتی اللہ تعالیٰ بھی اس کی حالت نہیں بدلتا۔ خدا تعالیٰ ایک تبدیلی چاہتا ہے اور وہ پاکیزہ تبدیلی ہے۔ جب تک وہ تبدیلی نہ ہو عذاب الہی سے رستگاری اور مخلصی نہیں ملتی۔ یہ خدا تعالیٰ کا ایک قانون اور سنت ہے اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں ہوتی کیونکہ خود اللہ تعالیٰ نے ہی یہ فیصلہ کر دیا ہے وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلًا ( الاحزاب : ٢٣) سنت اللہ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ۔ پس جو شخص چاہتا ہے کہ آسمان میں اس کے لیے تبدیلی ہو یعنی وہ ان عذابوں اور دکھوں سے رہائی پائے جو شامت اعمال نے اس کے لیے طیار کئے ہیں اس کا پہلا فرض یہ ہے کہ وہ اپنے اندر تبدیلی کرے۔ جب وہ خود تبدیلی کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کے موافق جو اس نے إِنَّ اللَّهَ لَا يُخَيَّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ میں کیا ہے اس کے عذاب اور دکھ کو بدلا دیتا ہے اور دکھ کو سکھ سے تبدیل کر دیتا ہے۔ جب انسان کے اندر تبدیلی کرتا ہے تو اس کے لیے ضرور نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو بھی دکھاتا پھرے ۔ وہ رحیم کریم خدا جو دلوں کا مالک ہے اس کی تبدیلی کو دیکھ لیتا ہے کہ یہ پہلا انسان نہیں ہے اس لیے وہ اس پر فضل کرتا ہے۔ تذکرۃ الاولیاء میں لکھا ہے کہ ایک شخص نماز روزہ اور دوسرے اشغال اذکار سے ریا کیا کرتا تھا تا کہ لوگ اسے ولی سمجھیں لیکن اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تمام لوگ اسے ریا کار سمجھتے تھے یہاں تک کہ بچے بھی جس راستہ