ملفوظات (جلد 6) — Page 23
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۳ اصل بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ ہیں جن پر حق کھل جاتا ہے مگر دنیا کے تعلقات اور مجبوریوں کو اپنا معبود بنا لیتے ہیں اور اس حق سے محروم رہتے ہیں۔ پس ہمیشہ خدا سے دعا مانگنی چاہیے کہ وہ ان ظلموں سے بچاتا رہے اور قبول حق کے لیے کوئی روک اس کے واسطے نہ ہو۔ نواب صاحب ۔ آپ میرے لیے ایمان کی دعا کریں۔ دنیا سے تو آخر ایک دن مر ہی جانا ہے۔ حضرت اقدس۔ اچھا میں تو دعا کروں گا مگر آپ کو بھی ان آداب اور شرائط کا لحاظ رکھنا چاہیے جو دعا کے واسطے ضروری ہیں ۔ میرے دعا کرنے سے کیا ہو گا جب آپ توجہ نہ کریں۔ بیمار کو چاہیے کہ طبیب کی ہدایتوں اور پر ہیز پر بھی تو عمل کرے۔ پس دعا کرانے کے واسطے ضروری ہے کہ آدمی خود اپنی اصلاح بھی کرے۔ مشیر اعلیٰ ۔ کیا جناب کو یہ بھی اطلاع دی گئی ہے کہ آپ کی عمر کتنی ہوگی ۔ حضرت اقدس ۔ ہاں عمر کے متعلق مجھے الہا ما یہ بتایا گیا تھا کہ وہ اسی کے قریب ہوگی ۔ اور حال میں ایک رؤیا کے ذریعہ یہ بھی معلوم ہوا کہ ۱۵ سال اور بڑھانے کے واسطے دعا کی ہے۔ (اس پر حضرت اقدس نے رویا سنا یا جو پہلے الحکم میں درج ہو چکا ہے۔ ایڈیٹر ) مشیر اعلیٰ ۔ اب جناب کی عمر کیا ہوگی؟ حضرت اقدس - ۶۵ یا ۶۶ سال ۔ جب ایک عقیدہ پرانا ہو جاتا ہے اور دیر سے انسان اس پر رہتا ہے تو پھر اسے اس کو چھوڑ نے میں بڑی مشکلات پیش آتے ہیں وہ اس کے خلاف نہیں سن سکتا بلکہ خلاف سننے پر وہ خون تک کرنے کو طیار ہو جاتا ہے کیونکہ پرانی عادت طبیعت کے رنگ میں ہو جاتی ہے۔ اس لیے میں جو کچھ کہتا ہوں اس کی مخالفت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ایک جمے ہوئے خیال کو یہ لوگ چھوڑ نا پسند نہیں کرتے۔ مشیر اعلیٰ ۔ اصل میں یہ کام جو آپ کر رہے ہیں، ہے بھی عظیم الشان ۔ حضرت اقدس۔ یہ میرا کام نہیں ہے یہ تو خلافت الہی ہے۔ جو میری مخالفت کرتا ہے وہ میری نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرتا ہے اس وقت مسلمانوں کی اخلاقی اور عملی حالت بہت خراب ہو چکی