ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 298 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 298

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۹۸ جلد ششم اڑے ہوئے ہیں لیکن خدا تعالیٰ زبر دستی سب کچھ چھڑا دے گا۔ زبردست سے لڑنا نادانی ہے ۔ اگر یہ کاروبار انسان کی طرف سے ہوتا تو کب کا تباہ ہو جاتا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر یہ ہم پر افترا کرتا تو ہم اس کی شاہ رگ کاٹ دیتے ۔ پھر کیا وجہ ہے کہ اگر میں خدا پر افترا کرتا ہوں اور تھوڑی مدت نہیں بلکہ تیس سال کے قریب ہو چلا کہ ہمیشہ اس کی طرف سے وحی لوگوں کو سناتا ہوں اور وہ جانتا بھی ہے کہ میں جھوٹا ہوں لیکن میری تائید کرتا ہے اور ہلاک نہیں کرتا۔ وہ کیسا خدا ہے کہ ایک جھوٹے سے اتفاق کر بیٹھا ہے اور ہزاروں نشان اس کی تائید میں دکھاتا ہے۔ نئی سواری بھی اس کے لیے نکالی ۔ کسوف و خسوف بھی اس کے لیے ماہِ رمضان میں کیا۔ طاعون بھی بھیجی۔ گو یا خدا نے جان کر دھوکا دیا اور جو کام دجال نے کرنا تھا وہ خود آپ کیا تا کہ مخلوق تباہ ہو۔ ذرا سو چوکیا خدا کے لیے یہ جائز ہو سکتا ہے کہ ایک کذاب ، مفتری اور دجال کی وہ اس قدر مدد کرے اور مولوی لوگ جو خود کو اس کا مقرب جانتے ہیں ان کی دعا ہر گز قبول نہ ہو ۔ جو لڑائی یہ لوگ لڑ رہے ہیں وہ مجھ سے نہیں بلکہ خدا سے ہے۔ میں تو کچھ شے نہیں ہوں۔ خدا سے لڑائی والا کبھی بابرکت نہیں ہو سکتا۔ میں تو اس بات کو کہتے ہوئے ڈرتا ہوں اور مجھے لرزہ پڑتا ہے کہ افترا ہو اور خدا چپ کر کے بیٹھا ر ہے۔ اگر ان کے نزدیک یہ افترا ہے تو چاہیے کہ دعا کریں کہ خدا اسے نیست کر دے یا دعا کر کے حضرت مسیح کو آسمان سے اتاریں۔ عیسائی محققین نے بھی آخر کار مسیح کے آسمان سے آنے سے تنگ آکر اور میعاد گذرتی دیکھ کر فیصلہ کر دیا ہے کہ کلیسا کو مسیح مان لو۔ یہی مسیح کا نزول ہے۔ ان کو بھی آخر کا رنزول کو استعارہ کے رنگ میں ہی ماننا پڑا۔ احادیث پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ تمام خلفاء اس اُمت میں سے ہوں گے۔ قرآن شریف بھی یہی کہہ رہا ہے اور سب جگہ منکم کا لفظ موجود ہے مگر نا معلوم کہ ان لوگوں نے مِنْ بَنِي إِسْرَاءِیل کہاں سے بنا لیا۔ کیا یہ تھوڑا نشان ہے کہ نہ کوئی واعظ ہے نہ لیکچرار اور ہماری ترقی برابر ہو رہی ہے۔ بھلا اگر ان کو طاقت ہے تو روک دیں ۔ اللہ تعالیٰ خود لوگوں کو ادھر رجوع دلا رہا ہے۔ مصر سے بھی بیعت کی درخواست آئی ۔ یورپ میں تحریک ہے۔ امریکہ میں تحریک ہے۔ میں پھر جماعت کو تاکید کرتا ہوں کہ تم لوگ ان کی مخالفتوں سے غرض نہ رکھو۔ تقویٰ طہارت میں ترقی کرو تو