ملفوظات (جلد 6) — Page 294
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۹۴ جلد ششم جماعتوں سے ہمیشہ سے نفرت ہے اور اگر میں ملتا ہوں یا ان لوگوں میں آکر بیٹھتا ہوں تو اپنی مرضی سے ہرگز نہیں ملتا بلکہ اللہ تعالیٰ مجھے مجبور کرتا ہے اور کہتا ہے کہ تو ایسا کر ۔ ایسی حالت میں بتلا ؤ اگر میں اس کی بات نہ مانوں تو کیا کروں۔ میں تو رات دن وحی کے نیچے کام کرتا ہوں۔ میں تو یہ کہتا ہوں کہ تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پختہ طور سے مانو۔ آپ کو ماننا یہ ہے کہ آپ کے وصایا پر عملدرآمد کیا جاوے اور انہی میں سے یہ بات بھی ہے کہ جب وہ مسیح موعود ( علیہ السلام ) آوے تو تم سب اس کے ساتھ ہو جانا۔ میرے ماننے کی مثال یہ ہے جیسے ایک آقا نوکر کو کہے کہ فلاں شخص میرا میزبان ہے تم اسے لاکر کھانا کھلاؤ اور ہر طرح کی تعظیم اور تکریم کر ولیکن نوکر اس کے جواب میں یہ کہے کہ میں تو صرف آپ کو مانتا ہوں ۔ مجھے کسی دوسرے کی تعظیم و تکریم سے غرض نہیں ہے اور نہ اس کی خواہش ہے۔ تو اب سوچ کر دیکھو کہ کیا اس نے اپنے آقا کو مانا۔ ہرگز نہیں مانا کیونکہ جس بات میں وہ راضی ہوتا ہے اس کے کرنے سے تو اسے انکار ہے۔ پس یا د رکھو کہ تم لوگ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حقیقی طور پر اسی وقت مانو گے جبکہ آپ کے احکام اور وصایا کو مانو گے ۔ جس نے آخری حکم کو توڑا اس نے سارے حکموں کو توڑا۔ سوچو تو سہی کہ اگر ایک شخص تمام عمر نماز ، روزہ ادا کرے لیکن آخری وقت بجائے لا اِلهَ اِلَّا الله کے رام رام کہے تو کیا وہ نماز روزہ اس کے کام آوے گا ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں تک فرمادیا کہ اس اُمت کی دو دیواریں ہیں ایک میں اور ایک مسیح اور اس کے درمیان آپ نے فیج اعوج فرمایا ہے جن کی نسبت ارشاد ہے کہ وہ نہ مجھ سے ہیں اور نہ میں ان سے ہوں ۔ پس جبکہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اسے ایک ٹیڑھا گر وہ قرار دیتے ہیں تو ہم ان کی باتوں کو کیوں قبول کر لیں ۔ اس موقع پر ایک وزیر آبادی متعصب مولوی نے مداخلت کی اور ٹیڑھی راہ اختیار کر کے بے جا سوال اور کلام شروع کیا۔ اوّل تو حضرت اقدس اسے حلیمی سے سمجھاتے رہے مگر جب معلوم ہوا کہ اس کی غرض رفع شکوک و شبہات نہیں صرف مناظرہ کا ایک اکھاڑہ قائم کرنا چاہتا ہے تو اس سے اعراض کیا اور فرمایا کہ لے کتابت کی غلطی ہے مہمان ہونا چاہیے ۔ (مرتب)