ملفوظات (جلد 6) — Page 284
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۸۴ جلد بعض آدمی ایک قسم کے اخلاق میں اگر عمدہ ہیں تو دوسری قسم میں کمزور ۔ اگر ایک خُلق کا رنگ اچھا ہے تو دوسرے کا برا لیکن تاہم اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اصلاح نا ممکن ہے۔ خلق سے ہماری مراد شیریں کلامی ہی نہیں بلکہ خلق اور خُلق دو الفاظ ہیں۔ آنکھ، کان، ناک وغیرہ جس قدر اعضا ظاہری ہیں جن سے انسان کو حسین وغیرہ کہا جاتا ہے ۔ یہ سب خلق کہلاتے ہیں اور اس کے مقابل پر باطنی قومی کا نام خُلق ہے ۔ مثلاً عقل ، فہم ، شجاعت ، عفت ، صبر وغیرہ اس قسم کے جس قدر قوی سرشت میں ہوتے ہیں وہ سب اسی میں داخل ہیں اور خُلق کو خلق پر اس لیے ترجیح اور ہے کہ خلق یعنی ظاہری جسمانی اعضا میں اگر کسی قسم کا نقص ہو تو وہ نا قابل علاج ہوتا ہے ۔ مثلاً ہاتھ اگر چھوٹا پیدا ہوا ہے تو اس کو بڑا نہیں کر سکتا لیکن خُلق میں اگر کوئی کمی بیشی ہو تو اس کی اصلاح ہو سکتی ہے۔ ذکر کرتے ہیں کہ افلاطون کو علم فراست میں بہت دخل تھا اور اس نے دروازہ پر ایک دربان مقرر کیا ہوا تھا۔ جسے حکم تھا کہ جب کوئی شخص ملاقات کو آوے تو اول اس کا حلیہ بیان کرو۔ اس خلیہ کے ذریعہ وہ اس کے اخلاق کا حال معلوم کر کے پھر اگر قابل ملاقات سمجھتا تو ملاقات کرتا اور نہ رڈ کر ا دیتا۔ ایک دفعہ ایک شخص اس کی ملاقات کو آیا ۔ دربان نے اطلاع دی۔ اس کے نقوش کا حال سن کر افلاطون نے ملاقات کا انکار کر دیا۔ اس پر اس شخص نے کہلا کر بھیجا کہ افلاطون سے کہہ دو کہ جو کچھ تم نے سمجھا ہے بالکل درست ہے مگر میں نے قوت مجاہدہ سے اپنے اخلاق کی اصلاح کر لی ہے۔ اس پر افلاطون نے ملاقات کی اجازت دے دی۔ پس خُلق ایسی تھے ہے جس میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔ اگر تبدیلی نہ ہو سکتی تو یہ ظلم تھا لیکن دعا اور عمل سے کام لو گے تب اس تبدیلی پر قادر ہوسکو ہوسکتی تھا گے۔ عمل اس طرح سے کہ اگر کوئی شخص مُمسک ہے تو وہ قدرے قدرے خرچ کرنے کی عادت ڈالے اور نفس پر جبر کرے۔ آخر کچھ عرصہ کے بعد نفس میں ایک تغیر عظیم دیکھ لے گا اور اس کی عادت امساک کی دور ہو جاوے گی ۔ اخلاق کی کمزوری بھی ایک دیوار ہے جو خدا اور بندے کے درمیان حائل ہو جاتی ہے۔