ملفوظات (جلد 6) — Page 21
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۱ جلد ابوطالب کے پاس جا کر شکایت کریں۔ چنانچہ ابوطالب کے پاس یہ لوگ گئے کہ تیرا بھتیجا ہمارے بتوں اور معبودوں کو برا کہتا ہے اس کو روکنا چاہیے۔ چونکہ ایک بڑی جماعت یہ شکایت لے کر گئی تھی اس لیے ابوطالب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا تاکہ ان کے سامنے آپ سے دریافت کریں۔ جہاں یہ لوگ بیٹھے ہوئے تھے وہ ایک چھوٹا دالان تھا اور ابو طالب کے پاس صرف ایک آدمی کے بیٹھنے کی جگہ باقی تھی جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ نے ارادہ فرمایا کہ چچا کے پاس بیٹھ جائیں مگر ابو جہل نے یہ دیکھ کر کہ آپ یہاں آکر بیٹھیں گے شرارت کی اور اپنی جگہ سے گود کر وہاں جا بیٹھا تا کہ جگہ نہ رہے اور سب نے مل کر ایسی شرارت کی کہ آپ کے بیٹھنے کو کوئی جگہ نہ رکھی ۔ آخر آپ دروازہ ہی میں بیٹھ گئے ۔ اس دردناک واقعہ سے ان کی کیسی شرارت اور کم ظرفی ثابت ہوتی ہے غرض جب آپ بیٹھ گئے تو ابو طالب نے کہا کہ اے میرے بھتیجے تو جانتا ہے کہ میں نے تجھ کو کس واسطے بلایا ہے یہ مکہ کے رئیس کہتے ہیں کہ تو ان کے معبودوں کو گالیاں دیتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے چا میں تو ان کو ایک بات کہتا ہوں کہ اگر تم یہ ایک بات مان لو تو عرب اور عجم سب تمہارا ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کون سی ایک بات ہے؟ تب آپ نے فرما یا لا اله الا الله جب انہوں نے یہ کلمہ سنا تو سب کے کپڑوں میں آگ لگ گئی اور بھڑک اٹھے اور مکان سے نکل گئے اور پھر آپ کی راہ میں بڑی روکیں اور مشکلات ڈالی گئیں۔ هرم تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے خدا کے راست بازوں اور ماموروں کے مقابلہ میں ہر قسم کی کوششیں ان کو کمزور کرنے کے لیے کی جاتی ہیں لیکن خدا ان کے ساتھ ہوتا ہے وہ ساری کوششیں خاک میں مل جاتی ہیں۔ ایسے موقع پر بعض شریف الطبع اور سعید لوگ بھی ہوتے ہیں جو کہہ دیتے ہیں۔ ان يك كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ ۚ وَ إِنْ يَكُ صَادِقًا يُصِبُكُمْ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمُ (المومن : ۲۹) صادق کا صدق خود اس کے لیے زبر دست ثبوت اور دلیل ہوتا ہے۔ اور کاذب کا کذب ہی اس کو ہلاک کر دیتا ہے۔ پس ان لوگوں کو میری مخالفت سے پہلے کم از کم اتنا ہی سوچ لینا چاہیے تھا کہ خدا تعالیٰ کی کتاب