ملفوظات (جلد 6) — Page 281
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۸۱ جلد ششم بیعت کی غرض میرے پاس اکثر خطوط آتے ہیں مگران میں یہی لکھا ہوتا ہے کہ میرے املاک کے لیے یا اولاد کے لیے دعا ہو ۔ فلاں مقدمہ ہے یا فلاں مرض ہے وہ اچھا ہو جاوے لیکن مشکل سے کوئی خط ایسا ہوتا ہے جس میں ایمان یا ان تاریکیوں کے دور ہونے کے لیے درخواست کی گئی ہو۔ بعض خطوط میں یہ لکھا ہوتا ہے کہ اگر مجھے پانسور و پیدل جاوے تو میں بیعت کرلوں ۔ بیوقوفوں کو اتنا خیال نہیں کہ جن باتوں کو ہم چھوڑانا چاہتے ہیں وہی ہم سے طلب کی جاتی ہیں۔ اسی لیے میں اکثر لوگوں کی بیعت سے خوف کرتا ہوں کیونکہ سچی بیعت کرنے والے بہت کم ہوتے ہیں۔ بعض تو ظاہری شروط لگاتے ہیں جیسے کہ اوپر ذکر ہوا اور بعض لوگ بعد بیعت کے ابتلا میں پڑ جاتے ہیں جیسے کسی کا لڑکا مر گیا تو شکایت کرتا ہے میں نے تو بیعت کی تھی یہ صدمہ مجھے کیوں ہوا؟ اس نادان کو یہ خیال نہیں آتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم با وجود کہ پیغمبر تھے مگر آپ کے گیارہ لڑ کے فوت ہو گئے اور کبھی شکایت نہ کی کہ خداوندا تو نے تو مجھے پیغمبر بنایا تھا میرے بچے کیوں مار دیئے؟ غرضیکہ یا د رکھو کہ دین کو دنیا سے ہرگز نہ ملانا چاہیے اور بیعت اس نیت سے ہرگز نہ کرنی چاہیے کہ میں بادشاہ ہی بن جاؤں گا یا ایسی کیمیا حاصل ہو جاوے گی کہ گھر بیٹھے روپیہ بنتا رہے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں تو اس لیے مامور کیا ہے کہ ان باتوں سے لوگوں کو چھڑا دیو ہیں۔ ہاں یہ بات ضرور ہے کہ جو لوگ صدق اور وفا سے خدا کی طرف آتے ہیں اور اس کے لیے ہر ایک دکھ اور مصیبت کو سر پر لیتے ہیں تو خدا ان کو اور ان کی اولاد کو ہر گز ضائع نہیں کرتا۔ حضرت داؤد علیہ السلام کہتے ہیں کہ میں بوڑھا ہو گیا لیکن کبھی نہیں دیکھا کہ صالح آدمی کی اولا د ضائع ہوئی ہو۔ خدا تعالیٰ خود اس کا متکفل ہوتا ہے۔ لیکن ابتدا میں ابتلا کا آنا ضروری ہے تا کہ کھوٹے اور کھرے کی شناخت ہو جاوے۔ عشق اول سرکش و خونی بود تا گریزد هر که بیرونی بود دوسرے ابتلا اس لیے ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو دکھلاوے کہ جو ہماری طرف آنے والے ہیں وہ کیسے مستقل مزاج اور جفاکش ہوتے ہیں کہ مار پر مار کھاتے ہیں لیکن منہ نہیں پھیرتے اور