ملفوظات (جلد 6) — Page 277
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۷۷ کو کوئی عارضہ ہو اور چاندی سونے کے برتن میں کھانا طبیب بتلاوے تو بطور علاج کے صحت تک وہ استعمال کر سکتا ہے۔ ایک شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ اسے جوئیں بہت پڑی ہوئی تھیں ۔ آپؐ نے حکم دیا کہ تو ریشم کا کرتہ پہنا کر اس سے جوئیں نہیں پڑتیں (ایسے ہی خارش والے کے لیے ریشم کا لباس مفید ہے )۔ سود کی بابت پوچھا گیا کہ بعض مجبوریاں لاحق حال ہو جاتی ہیں ۔ سود فرمایا کہ اس کا فتوی ہم نہیں دے سکتے ۔ یہ بہر حال نا جائز ہے۔ ایک طرح کا عود اسلام میں جائز ہے یہ کہ قرض دیتے وقت کوئی شرط وغیرہ کسی قسم کی نہ ہو اور مقروض جب قرضہ ادا کرے تو مروّت کے طور پر اپنی طرف سے کچھ زیادہ دے دیوے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و وسلم ایسا ہی کیا کرتے ۔ اگر دس روپے قرض لیے تو ادائیگی کے وقت ایک سو تک دے دیا کرتے ۔ سود حرام وہی ہے جس میں عہد معاہدہ اور شرائط اول ہی کر لی جاویں۔ ( بمقام لاہور ۔ احاطہ میاں چراغ دین و سراج دین و معراج دین ۲۱ راگست ۱۹۰۴ء رئیسیان لاہور ) ظہر کے وقت حضرت اقدس تشریف لائے اور نماز با جماعت ادا کرنے کے بعد احباب کی درخواست پر آپ ایک کرسی پر رونق افروز ہوئے ۔ میاں فیروز الدین صاحب نے آگے بڑھ کر نیاز حاصل کی ۔ حضرت اقدس نے چند نصائح فرماتے ہوئے تقریر کا سلسلہ یوں شروع کیا۔ تمام گناہوں سے بچنے کا ذریعہ خوف الہی ہے دیکھوا یاد رکھے کا مقام ہے کہ ہے بیعت کے چند الفاظ جو زبان سے کہتے ہو کہ میں گناہ سے پر ہیز کروں گا یہی تمہارے لیے کافی نہیں ہیں اور نہ صرف ان کی تکرار سے خدا راضی ہوتا ہے بلکہ خدا کے نزدیک تمہاری اس وقت قدر ہو گی جبکہ دلوں میں تبدیلی اور خدا کا خوف ل البدر جلد ۳ نمبر ۳۲ مورخه ۲۴ اگست ۱۹۰۴ صفحه ۸