ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 256 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 256

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۵۶ جلد ششم نے تم سے کوئی ایسا عظیم الشان کام لینا ہوتا تو تمہارا رئے اور دماغ اچھا بنا تا مگر یہ مصلحت الہی ہے کہ وہ اچھا نہیں بنایا گیا بلکہ کمزور بنایا گیا ہے۔ ع ہر کسے را بهر کاری ساختند تم اپنے آپ کو خوش باش رکھو اور خدا کی منشا کے خلاف نہ کرو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے محل يَعْمَلُ عَلَى شَاكِلَته (بنی اسر آءیل : ۸۵) ہر ایک شخص کرتا اور کر سکتا ہے ،مگر اپنی بناوٹ پر ۔مثلاً ایک شخص کو تھوڑا ہی صدمہ دیکھ کر شی لاحق ہو جاتی ہے۔ اب اس کو میدانِ جنگ میں تلوار دے کر بھیجا جاتا ہے کیا وہ صرف بندوقوں کی آوازیں سن کر ہی نہ مر جاوے گا۔ میں نے خود قادیان میں ایک شخص کو دیکھا ہے کہ اگر وہ بکر اذبح ہوتا ہواد یکھ لیتا تو اس کو غش ہو جاتا تو اگر قصاب کا کام اس کے سپر د کیا جاتا تو اس کا نتیجہ کیا ہوتا ؟ آپ ارادہ کرتے ہیں اختلاف مٹانے کا اور دماغ اور رئے آپ کا بہت خراب ہے۔ ایسا نہ ہو کہ بیماری مہلک ہو کر تمہارے اپنے اندر ہی اختلاف پیدا ہو جاوے۔ انسانی قوی تو بیشک ہر شخص کو ملے ہیں مگر مومن ایک سوراخ سے دو دفعہ دھوکا نہیں کھاتا۔ پس آپ کھاتا۔ پس آپ پر اس محنت کا پہلے بداثر ہو چکا ہے آپ کم سے کم پہلے تمام ڈاکٹروں سے دریافت کر لیں کہ آپ اس محنت کے قابل ہیں یا نہیں ۔ میں تو بمصداق الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَن کے ایک امین اور مشفق ناصح ہو کر آپ کو صلاح دیتا ہوں کہ آپ کے قومی ایسے نہیں کہ اس محنت کو برداشت کر سکیں ۔ دوزخ کے سات دروازے ہیں اور بہشت کے آٹھ جس رنگ سے اللہ تعالیٰ چاہے یقین عطا فرما دیوے۔ صحابہ کرام نے علوم فلسفہ وغیرہ کہاں پڑھے تھے۔ جو اسرار الہی طبعیات اور فلسفہ وغیرہ میں بھرے پڑے ہیں جو شخص ان سب کو طے کرنا چاہتا ہے وہ جاہل اور بے نصیب رہے گا۔ مثلاً آگ گرم اور مہلک ہے۔ اس بات کو تو ہر شخص دریافت کر سکتا ہے پر جب اس کے دل میں یہ سوال پیدا ہوگا کہ کیوں گرم ہے اور کیوں مہلک ہے تو یہاں فلسفہ ختم ہو جاوے گا ۔ پس اسرار الہیہ کو حد تک کوئی نہیں پہنچا سکتا ۔ تو کار زمین کے نکو ساختی که با آسمان نیز پرداختی لرئة پھیپھڑے کو کہتے ہیں (مرتب)