ملفوظات (جلد 6) — Page 254
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۵۴ جلد تو کس طرح معلوم ہو کہ یہ دوسرا جنم لے کر آیا ہے۔ اگر صرف اس کمی بیشی کو پورا کرنے کے واسطے جنم ماننا ہے تو ہم یوں کیوں نہ مان لیں کہ جس طرح یہاں تکلیف اٹھاتا ہے اسی طرح کے وہ خدا تعالیٰ اس کو اعلیٰ سے اعلیٰ بدلہ عطا نہیں کر سکتا مثلاً دیا نند مر گیا ہے کے آجاوے تو ہم اس کو اس طرح شناخت کر سکیں گے کہ ستیارتھ پرکاش یا وید کا کچھ حصہ ہمیں پڑھ کر سنا دیوے۔ پڑھا ہوا آدمی تو اگر بھینس کی شکل میں بھی آجاوے تو چاہیے کہ وہ بھینس بھی طوطے کی طرح بولے ۔ ہاں صوفیوں نے بھی یہ لکھا ہے۔ بیچو سبزہ بارہا روئیده ام ہفت صد هفتاد قالب دیده ام مگر اس کے کچھ اور معنے ہیں۔ یعنی جب انسان خدا تعالیٰ کی طرف ترقی کرنے لگتا ہے تو پہلے اس کی حالت بہت ابتر ہوتی ہے جس طرح ایک بچہ آج پیدا ہوا ہے تو اس میں صرف دودھ چوسنے ہی کی طاقت ہوتی ہے اور کچھ نہیں۔ پھر جب غذا کھانے لگتا ہے تو آہستہ آہستہ غصہ، کینہ، خود پسندی نخوت علیٰ ہذا القیاس سب باتیں اس میں ترقی کرتی جاتی ہیں اور دن بدن جوں جوں اس کی غذائیت بڑھتی سب بابا جاتی ہے شہوات اور طرح طرح کے اخلاق ردیہ اور اخلاق فاضلہ زور پکڑتے جاتے ہیں اور اسی طرح ایک وقت پر اپنے پورے کمال انسانی پر جا پہنچتا ہے اور یہی اس کے جسمانی جنم ہوتے ہیں ۔ یعنی کبھی کتے ، کبھی سور، کبھی بندر ، کبھی گائے، کبھی شیر وغیرہ جانوروں کے اخلاق اور صفات اپنے اندر پیدا کرتا جاتا ہے گو یا کل مخلوقات الارض کی خاصیت اس کے اندر ہوتی جاتی ہے۔ اسی طرح جب اللہ تعالیٰ کے ساتھ سلوک کا راستہ چاہے گا تو یہ ساری خاصیتیں اس کو طے کرنی پڑیں گی اور یہی تناسخ اصفیا نے مانا ہے اور اس کا اسلام اور ان کا قرآن بھی اقراری ہے۔ غالباً یہی تناسخ ہنود میں بھی تھا مگر بے علمی سے دھوکا لگ گیا اور سمجھ الٹی ہوگئی۔ مگر دنیا میں جس بات کو کوئی شخص مان بیٹھا ہے وہ اس کو چھوڑ نہیں سکتا ل البدر میں یہ فقرہ یوں درج ہے۔ اسی طرح کیا وہ خدا تعالیٰ اس کو اعلیٰ سے اعلیٰ بدلہ عطا نہیں کر سکتا ۔“ البدر میں ہے۔ اگر آجاوے۔“ البدر جلد ۳ نمبر ۲۷ مورخہ ۱۶ جولائی ۱۹۰۴ء صفحہ ۷ ) البدر جلد ۳ نمبر ۲۷ مورخہ ۱۶ جولائی ۱۹۰۴ ء صفحہ ۷ )