ملفوظات (جلد 6) — Page 18
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۸ جلد ششم اور نوحہ خوانی کرنا کوئی نجات کا ذریعہ اور خدا تعالیٰ سے سچا تعلق قائم کرنے کا طریقہ نہیں ہو سکتا ۔ خواہ کوئی ساری عمر ٹکریں مارتا رہے۔ سچی پیروی الگ چیز ہے اور محض مبالغہ ایک الگ امر ہے۔ جب تک انسان انبیاء علیہم السلام اور صلحاء کے رنگ میں رنگین نہیں ہو جاتا ان کے ساتھ محبت اور ارادت کا دعویٰ محض ایک خیالی امر ہے جس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ (ایڈیٹر ۔ والنعم ما قیل ) از عمل ثابت کن آں نوری که در ایمان تست دل چو دادی یوسفی را راه کنعاں راگزیں انبیاء ورسل علیہم السلام کے آنے کی غرض انبیاء علیہم السلام کے آنے کی اصل غرض یہ ہوتی ہے کہ لوگ ان کے نمونہ کو اختیار کریں اور اسی رنگ میں رنگین ہو کر ان کے ساتھ سچی محبت کا اقتضا یہی ہوتا ہے کہ ان کے نقش قدم پر چلیں اور اگر یہ بات نہیں تو سارے دعوے بیچ ہیں ۔ انبیاء علیہم السلام کی ایسی ہی مثال ہے جیسے گورنمنٹ مختلف قسم کی صنعتیں وغیرہ یہاں بھیجتی ہے اور لوگوں کو دکھاتی ہے۔ اس سے اس کی یہ غرض تو نہیں ہوتی کہ لوگ ان صنعتوں کو لے کر اس کی پوجا کریں بلکہ وہ تو یہ چاہتی ہے کہ یہاں کے لوگ بھی ان نمونوں کو دیکھ کر ان کی تقلید کریں اور ایسے نمونے خود طیار کریں ۔ جو طیار کرتے ہیں وہ فائدہ اُٹھاتے ہیں لیکن جو توجہ نہیں کرتے اُن کو کوئی فائدہ ان نمونوں سے نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح انبیا علیہم السلام کی جو لوگ سچی اطاعت کرتے ہیں اور ان کے قول و فعل کو اپنے لیے ایک نمونہ قرار دے کر اسی کے موافق اپنا چال چلن اور عملدرآمد کر لیتے ہیں خدا تعالیٰ ان کی مدد کرتا ہے اور ان پر بھی اسی رنگ کے برکات اور فیوض کا دروازہ کھولا جاتا ہے جس قسم کے برکات انبیاء علیہم السلام کو دیئے جاتے ہیں اور جوان کی اتباع نہیں کرتے وہ نامراد رہتے ہیں ۔ یہ نمونہ جب سے انبیاء علیہم السلام آتے ہیں برابر چلا آیا ہے ۔ اور ہر زمانہ میں اس کا تجربہ اور مشاہدہ ہوا ہے ۔ یہ ایک ایسی صداقت ہے جس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا بجز اس آدمی کے جس کو خدا پر بھی ایمان اور یقین نہ ہو۔ کے الحکم جلد ۸ نمبر ۸ مورخه ۱۰ر مارچ ۱۹۰۴ء صفحه ۱ تا ۳