ملفوظات (جلد 6) — Page 250
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۵۰ ۳ جولائی ۱۹۰۴ء (بمقام قادیان شریف ) ) جو لوگ زیارت ارت اور بیعت سے غربا کی دلجوئی شام کا وقت تھا۔ بعد نماز مغرب مختلف پلاد سے جوا شرف یاب ہونے کے لیے آئے ہوئے تھے۔ مثل پروانہ حضرت پر گر رہے تھے۔ اکثر حصہ ان میں سے دیہات والوں کا تھا۔ جگہ کی تنگی اور مردمان کی کثرت دیکھ کر بعض نے کہا کہ لوگو پیچھے ہٹ جاؤ حضرت جی کو تکلیف ہوتی ہے۔ اس پر حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ کس کو کہا جاوے کہ تم پیچھے ہٹو جو آتا ہے اخلاص اور محبت لے کر آتا ہے۔ سینکڑوں کوس کے سفر کر کے یہ لوگ آتے ہیں صرف اس لیے کہ کوئی دم صحبت حاصل ہوا اور انہیں کی خاطر خدا تعالیٰ نے سفارش کی ہے اور فرمایا ہے وَلَا تُصَعِرُ لِخَلْقِ اللهِ وَلَا تَسْتَمْ مِنَ النَّاسِ ۔ یہ صرف غریبوں کے حق میں ہے کہ جن کے کپڑے میلے ہوتے ہیں اور ان کو چنداں علم بھی نہیں ہوتا خدا تعالیٰ کا فضل ہی ان کی دستگیری کرتا ہے کیونکہ امیر لوگ تو عام مجلسوں میں خود ہی پوچھے جاتے ہیں اور ہر ایک ان سے با اخلاق پیش آتا ہے اس لیے خدا تعالیٰ نے غریبوں کی سفارش کی ہے جو بیچارے گمنام زندگی بسر کرتے ہیں۔ بہت تجسس کرنا جائز نہیں ایک شخص نے سوال کیا کہ ہمارے شہر میں وجودی فرقہ کے لوگ کھانا حلال ہے کہ نہیں؟ کثرت سے ہیں اور ذبیحہ وغیرہ انہیں کے ہاتھ سے ہوتا ہے کیا اس کا فرمایا کہ بہت تجسس کرنا جائز نہیں ہے ۔ موٹے طور پر جو انسان مشرک یا فاسق ہو اس سے پر ہیز کرو۔ عام طور پر اس طرح تجسس کرنے سے بہت سی مشکلات در پیش آتی ہیں۔ جوذ بچہ اللہ کا نام لے کر کیا جاوے اور اس میں اسلام کے آداب مد نظر ہوں وہ خواہ کسی کا ہو جائز ہے۔