ملفوظات (جلد 6) — Page 247
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۴۷ جلد مسئلہ کی بدعت ایجاد کی اور اس کی ایک آنکھ ہی تھی۔ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ اس کا خلیہ بیان کیا ہے ممکن ہے کہ مکاشفہ میں آپ کو وہی دکھایا گیا ہو اور اس کے متبعین نے ہی یہ تمام ایجادیں کی ہیں جس کو دجال کی صنعت اور کارناموں کی طرف منسوب کیا جا سکتا ہے۔ حضرت اقدس نے فرمایا۔ ہاں ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ تقدیر معلق و مبرم صدقات و خیرات سے بل کے ملنے کا ذکر ہوا۔ اس پرحضرت اقدس نے فرمایا که ہاں یہ بات ٹھیک ہے۔ اس پر لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ تقدیر کے دو حصے کیوں ہیں تو جواب یہ ہے کہ تجربہ اس بات پر شاہد ہے کہ بعض وقت سخت خطرناک صورتیں پیش آتیں ہیں اور انسان بالکل مایوس ہو جاتا ہے لیکن دعا و صدقات و خیرات سے آخر کار وہ صورت ٹل جاتی ہے ۔ پس آخر یہ ماننا پڑتا ہے کہ اگر معلق تقدیر کوئی شئے نہیں ہے او جو کچھ ہے مبرم ہی ہے تو پھر دفع بلا کیوں ہو جاتا ہے؟ اور دعا و صدقہ و خیرات وغیرہ کوئی شے نہیں ہے۔ بعض ارادے الہی صرف اس لیے ہوتے ہیں کہ انسان کو ایک حد تک خوف دلایا جاوے اور پھر صدقہ و خیرات جب وہ کرے تو وہ خوف دور کر دیا جاوے۔ دعا کا اثر مثل نر و مادہ کے ہوتا ہے کہ جب وہ شرط پوری ہو اور وقت مناسب مل جاوے اور کوئی نقص نہ ہو تو ایک امر مل جاتا ہے اور جب تقدیر مبرم ہو تو پھر ایسے اسباب دعا کی قبولیت کے ہم نہیں پہنچتے۔ طبیعت تو دعا کو چاہتی ہے مگر توجہ کامل میسر نہیں آتی اور دل میں گداز پیدا نہیں ہوتا۔ نماز سجدہ وغیرہ جو کچھ کرتا ہے اس میں بدمزگی پاتا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انجام بخیر نہیں اور او تقدیر مبرم ہے ۔ کے اس مقام پر ایک نے عرض کی کہ جب نواب محمد علی خان صاحب کا صاحبزادہ سخت بیمار ہوا تھا تو لے الحکم سے ۔ صدقہ ۔ صدق سے لیا گیا ہے۔ جب کوئی خدا کی راہ میں صدقہ دیتا ہے تو معلوم ہوا کہ خدا سے صدق رکھتا ہے۔ دوسرا دعا۔ دعا کے ساتھ قلب پر سوز و گداز اور رقت پیدا ہوتی ہے۔ دعا بھی ایک قربانی ہے ۔ صدق اور دعا ہے۔ اگر یہ دو باتیں میسر آجاویں تو اکسیر ہیں ۔“ الحکم جلد ۸ نمبر ۲۲ مورخہ ۱۰ جولائی ۱۹۰۴ء صفحه ۱۲) 66