ملفوظات (جلد 6) — Page 237
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۳۷ سچی بات یہ ہے کہ حق جب ظاہر ہو تو جو اسے خواہ نخواہ رڈ کرتا ہے اور دلائل، معقولات ، منقولات اور خدا تعالیٰ کے نشانوں کو ٹالتا جاوے وہ کب متقی ہو سکتا ہے۔' متقی کو تو ترساں اور لرزاں ہونا چاہیے۔ کیا دنیا میں ایسا ہوا ہے کہ چوبیس سال سے برابر ایک انسان رات کو منصوبہ بناتا ہے اور صبح کو خدا کی طرف لگا کر کہتا ہے کہ مجھے یہ وحی یا الہام ہوا اور خدا اس سے مؤاخذہ نہیں کرتا ۔ اس طرح سے تو دنیا میں اندھیر پڑ جاوے اور مخلوق تباہ ہو جاوے۔ ہ ہو جاوے۔ متقی تو ایک ہی بات سے فائدہ اٹھا سکتا ہے اور یہاں تو ہزاروں ہیں۔ زمانہ الگ پکار رہا ہے ۔ احادیث مِنْكُمْ مِنْكُم کہہ رہی ہیں ۔ سورہ نور میں بھی مِنكُم لکھا ہے۔ قساوت قلبی اور بہائم کی طرح جو زندگی بسر ہو رہی ہے وہ الگ بتا رہی ہے۔ صدی کے سر پر کہتے تھے کہ مجدد آتا ہے۔ اب ۲۲ سال بھی ہو چکے۔ کسوف و خسوف بھی ہولیا۔ طاعون بھی آگئی ۔ حج بھی بند ہوا۔ ان سب باتوں کو دیکھ کر اگر اب بھی یہ لوگ نہیں مانتے تو ہم کیوں کر جانیں کہ ان میں تقویٰ ہے ۔ ہم نے بار بار کہا کہ آؤ اور جن باتوں کا تم کو سوال کرنے کا حق پہنچتا ہے وہ پوچھو۔ ہاں یہ نہیں ہوگا کہ قرآن شریف تو کچھ کہے اور تم کچھ کہو اور ایسے اقوال پیش کرو جو اس کے مخالف ہوں ۔ مسیح کا نزول جسمانی آسمان سے مانتے ہیں حالانکہ وہ جب صحیح ہو سکتا ہے جبکہ صعود اوّل ہو۔ قرآن مسیح کی وفات بیان کرتا ہے اور یہ کہتے ہیں کہ چھت پھاڑ کر آسمان پر چلا گیا۔ کیا تقوی اس بات کا نام ہے کہ یقین کو ترک کر کے تو ہمات کی اتباع کی جاوے۔ سچے تقویٰ کا پتا قرآن سے ملتا ہے کہ دیکھ لیوے کہ تقویٰ والوں نے کیا کیا کام کیے۔ دعا کے ذرا ذریعہ اپنے بھائیوں کی مدد کرو مذکورہ بالاتقریر کے بعد ایک صاحب نے عرض کی کہ حضور بعض احمدی بھائی ایسے ہیں نے بیعت کی ہوئی ہے اور اخلاص بھی رکھتے ہیں مگر بعض اقوال اور حرکات ان سے بیجا ظاہر ہوتی ہیں ۔ بعض ان میں سے احادیث کے قائل نہیں ۔ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا۔ اصل بات یہ ہے کہ سب لوگ ایک طبقہ کے نہیں ہوتے ۔ خدا تعالیٰ بھی قرآن شریف میں ل البدر جلد ۳ نمبر ۲۲ ، ۲۳ مورخه ۱۶،۸ رجون ۱۹۰۴ صفحه ۲ نیز الحکم جلد ۸ نمبر ۲۲ مورخہ ۱۰ جولائی ۱۹۰۴ صفحه ۱۰