ملفوظات (جلد 6) — Page 216
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۱۶ جلد ششم سمجھتا اور کامل صلاح اور تقوی اختیار نہیں کر لیتا تو اس وقت تک وہ حقیقی راحت دستیاب نہیں ہو سکتی ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّلِحِينَ (الاعراف: ۱۹۷) یعنی جو صلاحیت اختیار کرتے ہیں خدا ان کا متوتی ہو جاتا ہے۔ انسان جو متوتی رکھتا ہے اس کے بہت بوجھ کم ہو جاتے ہیں ۔ بہت ساری ذمہ داریاں گھٹ جاتی ہیں ۔ بچپن میں ماں بچے کی متوتی ہوتی ہے تو بچے کو کوئی فکر اپنی ضروریات کا نہیں رہتا۔ وہ خود ہی اس کی ضروریات کی کفیل ہوتی ہے۔ اس کے کپڑوں اور کھانے پینے کے خود ہی فکر میں لگی رہتی ہے۔ اس کی صحت قائم رکھنے کا دھیان اسی کو رہتا ہے۔ اس کو نہلاتی اور دھلاتی ہے اور کھلاتی اور پلاتی ہے۔ یہاں تک کہ بعض وقت اس کو مار کر کھانا کھلاتی اور پانی پلاتی اور کپڑا پہناتی ہے۔ بچہ اپنی ضرورتوں کو نہیں سمجھتا بلکہ ماں ہی اس کی ضرورتوں کو خوب سمجھتی اور ان کو پورا کرنے کے خیال میں لگی رہتی ہے۔ اسی طرح جب ماں کی تولیت سے نکل آئے تو انسان کو بالطبع ایک متولی کی ضرورت پڑتی ہے۔ طرح طرح سے اپنے متولی اور لوگوں کو بناتا ہے جو خود کمزور ہوتے ہیں اور اپنی ضروریات میں غلطاں ایسے ہوتے ہیں کہ دوسرے کی خبر نہیں لے سکتے۔ لیکن جو لوگ ان سب سے منقطع ہو کر اس قسم کا تقویٰ اور اصلاح اختیار کرتے ہیں ان کا وہ خود متولی ہو جاتا ہے اور ان کی ضروریات اور حاجات کا خود ہی کفیل ہو جاتا ہے۔ انہیں کسی بناوٹ کی ضرورت ہی نہیں رہتی ۔ وہ اس کی ضروریات کو ایسے طور سے سمجھتا ہے کہ یہ خود بھی اس طرح نہیں سمجھ سکتا اور اس پر اس طرح فضل کرتا ہے کہ انسان خود حیران رہتا ہے۔ گر نہ ستانی به ستم می رسد والی نوبت ہوتی ہے۔ لیکن انسان بہت سے زمانے پالیتا ہے جب اس پر ایسا زمانہ آتا ہے کہ خدا اس کا متولی ہو جائے یعنی اس کو خدا کی تولیت حاصل کرنے سے پہلے کئی متولیوں کی تولیت سے گذرنا پڑتا ہے۔ جیسا کہ خدا فرماتا ہے قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ مَلِكِ النَّاسِ إِلَهِ النَّاسِ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ ( النَّاسِ : ۲ تا ۷ ) پہلے حاجت ماں باپ کی پڑتی ہے پھر جب بڑا ہوتا ہے تو بادشاہوں اور حاکموں کی حاجت پڑتی ہے پھر جب اس سے آگے قدم بڑھاتا ہے اور اپنی غلطی کا اعتراف کرتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ جن کو میں