ملفوظات (جلد 6) — Page 10
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۰ جلد ششم تھے ایک تیس روپے کے لالچ سے اس کو گرفتار کرانے والا ٹھہرا۔ اور دوسرا جس کو بہشت کی کنجیاں دی گئی تھیں وہ سامنے لعنت بھیجتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام قوم کو لے کر نکلتے ہیں مگر وہ اس قوم کو کجرو کہتے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں بات بات پر اعتراض کرنے والے اور انکار کرنے والی قوم تھی یہاں تک کہ کہہ دیا فَاذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِنَا إِنَّا هُهُنَا فَعِدُونَ (المائدة: ۲۵ ) ۔ ♡ مگر اس کے بالمقابل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت کو دیکھو کہ انہوں نے بکریوں کی طرح اپنا خون بہا دیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں ایسے گم ہو گئے تھے کہ وہ اس کے لیے ہر ایک تکلیف اور مصیبت کو اُٹھانے کو ہر وقت طیار تھے۔ انہوں نے یہاں تک ترقی کی کہ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ (البينة:9) کا سرٹیفکیٹ ان کو دیا گیا۔ پس صحابہ کرام کی وہ پاک جماعت تھی جو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی الگ نہیں ہوئے اور وہ آپ کی راہ میں جان دینے سے بھی دریغ نہ کرتے تھے بلکہ دریغ نہیں کیا ان کی نسبت آیا ہے مِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ (الاحزاب: ۲۴) یعنی بعض اپنا حق ادا کر چکے اور بعض منتظر ہیں کہ ہم بھی اس راہ میں مارے جاویں۔ اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قدر و عظمت معلوم ہوتی ہے۔ مگر یہاں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے روشن ثبوت ہیں ۔ اب اگر کوئی شخص ان ثبوتوں کو ضائع کرتا ہے۔ تو وہ گو یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو ضائع کرنا چاہتا ہے پس وہی شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی قدر کر سکتا ہے جو صحابہ کرام کی قدر کرتا ہے جو صحابہ کرام کی قدر نہیں کرتا وہ ہرگز ہرگز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قدر نہیں کرتا وہ اس دعوے میں جھوٹا ہے اگر کہے کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہوں کیونکہ یہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہو اور پھر صحابہ سے دشمنی ۔ جو لوگ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو برا سمجھتے ہیں اور ان سے دشمنی کرتے ہیں وہ فی الحقیقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی کرتے ہیں کیونکہ وہ آپ کی نبوت کے روشن دلائل کو توڑتے ہیں۔ جب ایک ٹانگ ٹوٹ جاوے تو باقی کیا رہ جاتا ہے۔ اگر آپ اپنے سارے زمانہ رسالت میں