ملفوظات (جلد 6) — Page 167
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۶۷ جلد رؤیت کا انکار کرنا کتنا بڑا ظلم ہے۔ ہزاروں ہزار نشان خدا تعالیٰ نے اپنے بندہ کی تصدیق کے لیے ظاہر کئے اور ان کے دیکھنے والے موجود ہیں ۔ مگر افسوس کی بات ہے کہ ان کو رد کر دیا جاتا ہے اور جدید نشانوں کی خواہش کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ قادر ہے کہ وہ اور نشانات دکھلاوے لیکن سنت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ ایسے اقتراح کرنے والے اور اپنے ایمان کو مشروط کرنے والے ٹھو کر کھا جاتے ہیں ۔ پچھلے نشانوں کو ترک کر کے آئندہ کے لیے سوال کرنا آیات اللہ کی بے حرمتی اور خدا تعالیٰ کے حضور شوء ادبی ہے۔ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُم (ابراهیم : ۸) اگر تم میری نعمت کا شکر کرو گے تو میں اُسے بڑھاؤں گا اور پھر فرمایا وَ لَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ (ابراهيم : ٨) اور اگر انکار اور کفر کرو گے تو میرا عذاب بہت سخت ہے ۔ اب بتاؤ کہ ان آیات الہی کی تکذیب اور ان کو چھوڑ کر جدید کی طلب اور اقتراح یہ عذاب الہی کو مانگنا ہے یا کیا ؟ دیکھو! میں سچ کہتا ہوں کہ تم خدا تعالیٰ کی آیات سلسلہ کی تائید میں عظیم نشانات کا ظہور کی بے ادبی مت کرو اور انہی حقیر نہ مجھ کہ یہ محرومی کے نشان ہیں اور خدا تعالیٰ اس کو پسند نہیں کرتا ۔ ابھی کل کی بات ہے کہ لیکھرام خدا تعالیٰ کے ایک عظیم الشان نشان کے موافق مارا گیا۔ کروڑوں آدمی اس پیشگوئی کے گواہ ہیں خود لیکھرام نے اسے شہرت دی وہ جہاں جاتا اسے بیان کرتا۔ یہ نشان اسلام کی سچائی کے لیے اس نے خود مانگا تھا اور اس کو سچے اور جھوٹے مذہب کے لیے بطور معیار قائم کیا تھا آخر وہ خود اسلام کی سچائی اور میری سچائی پر اپنے خون سے شہادت دینے والا ٹھہرا۔ اس نشان کو جھٹلانا اور اس کی پروا نہ کرنا یہ کس قدر بے انصافی اور ظلم ہے پھر ایسے کھلے کھلے نشان کا انکار کرنا تو خود لیکھر ام بننا ہے اور کیا ؟ مجھے بہت ہی افسوس ہوتا ہے کہ جس حال میں خدا تعالیٰ نے ایسا فضل کیا ہے کہ اس نے ہر قوم کے متعلق نشانات دکھائے جلالی اور جمالی ہر قسم کے نشان دیئے گئے پھر ان کو رڈی کی طرح پھینک دینا یہ تو بڑی ہی بدبختی اور اللہ تعالیٰ کے غضب کا مورد بننا ہے۔ جو آیات اللہ کی پروا نہیں کرتا وہ یادرکھے اللہ تعالیٰ بھی اس کی پروا نہیں کرتا خدا تعالیٰ کی طرف سے جو نشان ظاہر ہوتے ہیں وہ ایسے ہوتے ہیں کہ ایک عقلمند