ملفوظات (جلد 6) — Page 160
ملفوظات حضرت مسیح موعود ١٦٠ جلد طریق ادب طریق ادب تو ی ہے کہ پہلے کتابوں کو دیکھ جاتا اور دیانتداری اور خداتری سے ان میں غور کیا جاتا وہ نشانات جو ان میں درج کئے گئے ہیں ان پر فکر کی جاتی اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر کوئی شخص سلیم دل لے کر میری کتابوں کو پڑھے گا اور ان نشانوں پر غور کرے گا تو اس کا دل بول اُٹھے گا کہ یہ انسانی طاقت سے باہر ہے کہ ایسے جلیل القدر نشان دکھا سکے لیکن ان کتابوں کو دیکھا نہیں جاتا اور تقویٰ سے کام نہیں لیا جاتا پھر شوخی سے کہا جاتا ہے کہ نشان دکھاؤ اگر یہ ضروری ہوتا کہ ہر شخص کے لیے ایک جدا نشان ہے ہر شخص کے لیے ایک جدا نشان ہو اور پھر ایک لمبا اور لا انتہا سلسلہ شروع ہو جاوے۔ ہر ایک شخص آکر کہے کہ پہلا نشان میرے لیے کافی نہیں ہے۔ مجھے کوئی اور نشان دکھایا جاوے۔ جو اس قسم کی جرات کرتا ہے وہ خدا تعالیٰ کو آزماتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ اس کے لئے ہدایت بھی نہیں ہے کیونکہ اس سے صریح بو آتی ہے کہ خدا کے پہلے نشانوں کو وہ حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے۔ نشانوں کی ایک حد ہوتی ہے اور ان کی شناخت کے لیے ایک قوت شامہ دی جاتی ہے جو وہ قوت نہیں رکھتا ہے جس سے اس کو پہچانے اس کے سامنے خواہ کتنے ہی نشان ظاہر ہوں وہ کوئی فائدہ نہیں اُٹھا سکتا۔ اسلام کی سچائی پر یوں تو ہر زمانہ میں لاکھوں تازہ بہ تازہ نشان ہوتے ہیں مگر کیا یہ نشان بجائے خود کم ہے کہ جس توحید کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لائے ہیں اور جس شرک و بدعت کو آپ نے دور کیا ہے دنیا میں کبھی کسی مذہب نے نہیں کیا۔ ایک عقلمند کے لیے تو یہ نشان ایسا عظیم الشان ہے کہ اس کی نظیر نہیں ملتی لیکن ایک غبی اس سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھا سکتا۔ مفتری مہلت نہیں یا سکتا ایک ولی اللہ ذات کے قصاب تھے ایک شخص ان کے پاس آیا اور اس ں نے کہا کہ میں تب مانتا ہوں اگر آپ کوئی نشان دکھا ئیں ۔ انہوں نے اس کو کیا عمدہ جواب دیا ہے کہ باوجود یکہ تیرا خیال ہے کہ ہم ایسے ہیں اور پھر باوصف ایسے گنہگار ہونے کے تو دیکھتا ہے کہ ہم اب تک غرق نہیں ہو گئے ۔ اسی طرح پر ہم بھی کہتے ہیں کہ کیا