ملفوظات (جلد 6) — Page 135
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۳۵ جلد ششم میں مر گیا اور اس کی روح گداز ہو کر خدا کے آستانہ پر گر پڑی ہے اگر طبیعت میں قبض اور بدمزگی ہو تو اس کے لیے بھی دعا ہی کرنی چاہیے کہ الہی تو ہی اسے دور کر اور لذت اور نور نازل فرما جس گھر میں اس قسم کی نماز ہوگی وہ گھر کبھی تباہ نہ ہوگا۔ حدیث شریف میں ہے کہ اگر نوٹ کے وقت میں یہ نماز ہوتی تو وہ قوم کبھی تباہ نہ ہوتی ۔ حج بھی انسان کے لیے مشروط ہے روزہ بھی مشروط ہے زکوۃ بھی مشروط ہے مگر نماز مشروط نہیں سب ایک سال میں ایک ایک دفعہ ہیں مگر اس کا حکم ہر روز پانچ دفعہ ادا کرنے کا ہے اس لیے جب تک پوری پوری نماز نہ ہوگی تو وہ برکات بھی نہ ہوں گے جو اس سے حاصل ہوتے ہیں اور نہ اس بیعت کا کچھ فائدہ حاصل ہوگا ۔ اگر بھوک یا پیاس لگی ہو تو ایک لقمہ یا ایک گھونٹ سیری نہیں بخش سکتا پوری خوراک ہوگی تو تسکین ہو گی اسی طرح ناکارہ تقویٰ ہرگز کام نہ آوے گی ۔ خدا تعالیٰ انہیں سے محبت کرتا ہے جو اس سے محبت کرتے ہیں لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ (آل عمران: ۹۳) کے یہ معنے ہیں کہ سب سے عزیز شے جان ہے اگر موقع ہو تو وہ بھی خدا کی راہ میں دے دی جاوے۔ نماز میں اپنے اوپر جوموت اختیار کرتا ہے وہ ہی بڑ کو پہنچتا ہے۔ ۱۶ را پریل ۱۹۰۴ء طاعون زدہ کی نماز جنازہ حضرت مولانا مولوی عبد الکریم صاحب نے ایک صاحب کا خط حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو سنایا۔ جس میں راقم خط نے طاعون زدہ کی نماز جنازہ ادا کرنے کے بارے میں استفسار کیا تھا۔ نیز طاعون کے مریضوں سے ہمدردی اور خبر گیری کے متعلق آپ کا ارشاد چاہا تھا۔ اس پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ جنازہ پڑھنا چاہیے اور ہمدردی بھی کرنی چاہیے لیکن شریعت کے حکم کے موافق اپنے بچاؤ کا بھی ضرور خیال رکھیں ۔ جنازہ کی نماز فرض کفایہ ہے۔ اگر لوگ گھر بھر کا ایک آدمی بھی شامل ہو جاوے تو کافی ہے سب کی طرف سے ادا ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر کوئی ایسی میت ہو کہ اس سے تعفن اور البدر جلد ۳ نمبر ۱۵ مورخه ۱۶ را پریل ۱۹۰۴ صفحه ۳، ۴