ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 118 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 118

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۱۸ جلد تکبر ، بخل، غرور وغیرہ بداخلاقیاں بھی اپنے اندر شرک کا ایک حصہ رکھتی ہیں اس لیے ان بداخلاقیوں کا مرتکب خدا تعالیٰ کے فضلوں سے حصہ نہیں لیتا بلکہ وہ محروم ہو جاتا ہے برخلاف اس کے غربت وانکسار کرنے والا خدا تعالیٰ کے رحم کا مور د بنتا ہے۔ کھ تکبر کی قسمیں تکبر کی قسم کا ہوتا ہےبھی یہ آنک سے ٹکتا ہے جبکہ یہ دورے کو گھر کر دیکھا ہے تو اس کے یہی معنے ہوتے ہیں کہ دوسرے کو حقیر سمجھتا ہے اور اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہے۔ کبھی زبان سے نکلتا ہے اور کبھی اس کا اظہار سر سے ہوتا ہے اور کبھی ہاتھ اور پاؤں سے بھی ثابت ہوتا ہے غرضیکہ تکبر کے کئی چشمے ہیں اور مومن کو چاہیے کہ ان تمام چشموں سے بچتا رہے اور اس کا کوئی عضو ایسا نہ ہو جس سے تکبر کی بو آ وے اور وہ تکبر ظاہر کرنے والا ہو۔ لے ، ہے صوفی کہتے ہیں کہ انسان کے اندر اخلاق رذیلہ کے بہت سے جن ہیں اور جب یہ تو نکلتے رہتے ہیں مگر سب سے آخری جن تکبر کا ہوتا ہے جو اس میں رہتا ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل اور انسان کے سچے مجاہدہ اور دعاؤں سے نکلتا ہے۔ بہت سے آدمی اپنے آپ کو خاکسار سمجھتے ہیں لیکن ان میں بھی کسی نہ کسی نوع کا تکبر ہوتا ہے اس لیے تکبر کی بار یک دربار یک قسموں سے بچنا چاہیے۔ بعض وقت یہ تکبر دولت سے پیدا ہوتا ہے دولتمند متکبر دوسروں کو کنگال سمجھتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ کون ہے جو میرا مقابلہ کرے۔ بعض اوقات خاندان اور ذات کا تکبر ہوتا ہے سمجھتا ہے کہ میری ذات بڑی ہے اور یہ چھوٹی ذات کا ہے ایک عورت سیدانی تھی اسے پیاس لگی وہ دوسرے کے گھر میں جا کر کہنے لگی کہ اُمتی تو پانی تو پلاگر پیالہ کو دھو لینا کیونکہ تم اُمتی ہواور میں سیدانی اور آلِ رسول ہوں۔ بعض وقت تكبر علم سے بھی پیدا ہوتا ہے ایک شخص غلط بولتا ہے تو یہ جھٹ اس کا عیب پکڑتا ہے نمبر ۱۱ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۴ ۱۹۰۱ صفحه ۵،۳ الحکم جلد نمبر ۱ کے نوٹ از مرتب ۔ الحکم کے اس پرچہ کے بعض صفحات پر تاریخ غلط درج ہے۔ ۳۱ مارچ کی بجائے کار مارچ لکھا ہے اور ٹائٹل پیج پر بھی ایسا ہی ہے اور نیز نمبر 1 کی بجائے نمبر ۹ لکھا ہے۔ ایساہی ہےاور نیز ۱۷