ملفوظات (جلد 6) — Page 110
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۱۰ گناہوں کی حقیقت گناہ کیا چیز ہے اللہ تعالی کے خلاف مرضی کرنا اور ان ہدا تیوں کو جو اس نے اپنے پیغمبروں خصوصاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت دی ہیں توڑنا اور دلیری سے ان ہدایتوں کی مخالفت کرنا یہ گناہ ہے جبکہ ایک بندہ کو خدا تعالیٰ کی ہدایتوں کا علم دیا جاوے اور اس کو سمجھا دیا جاوے پھر اگر وہ ان ہدایتوں کو توڑتا اور شوخی اور شرارت سے گناہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بہت ناراض ہوتا ہے اور اس ناراضگی کا یہی نتیجہ نہیں ہوتا کہ وہ مرنے کے بعد دوزخ میں پڑے گا بلکہ اسی دنیا میں بھی اس کو طرح طرح کے عذاب آتے اور ذلت اٹھانی پڑتی ہے۔ دنیاوی حکام کا بھی یہی حال ہے کہ وہ ایک قانون مشتہر کر دیتے ہیں اور پھر اگر کوئی ان کے احکام کو توڑتا اور خلاف ورزی کرتا ہے تو پکڑا جاتا اور سزا پاتا ہے لیکن دنیوی حکام کے عذاب سے اور ان کے قوانین و احکام کی خلاف ورزی کی سزا سے آدمی کسی دوسری عمل داری میں بھاگ جانے سے بچ بھی سکتا ہے اور اس طرح پیچھا چھڑا سکتا ہے مثلاً اگر انگریزی عمل داری میں کوئی خلاف ورزی کی ہے تو وہ فرانس یا کابل کی عمل داری میں بھاگ جانے سے بچ سکتا ہے لیکن خدا تعالیٰ کے احکام و ہدایات کی خلاف ورزی کر کے انسان کہاں بھاگ سکتا ہے؟ کیونکہ یہ زمین و آسمان جو نظر آتا ہے یہ تو اسی کا ہے اور کوئی اور زمین و آسمان کسی اور کا کہیں نہیں ہے جہاں تم کو پناہ مل جاوے اس واسطے یہ بہت ضروری امر ہے کہ انسان ہمیشہ خدا تعالیٰ سے ڈرتا رہے اور اس کی ہداتیوں کے توڑنے یا گناہ کرنے پر دلیر نہ ہو کیونکہ گناہ بہت ہی بری تھے ہے اور جب انسان اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا اور گناہ پر دلیری کرتا ہے تو پھر عادت اللہ اس طرح پر جاری ہے کہ اس جرات و دلیری پر خدا تعالیٰ کا غضب آتا ہے اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ دو قسم کے دکھ کے دکھ دنیا میں دو قسم کے دکھ ہوتے ہیں بعض دکھ اس قسم کے ہوتے ہیں کہ ان میں تسلی دی جاتی ہے اور صبر کی توفیق ملتی ہے۔ فرشتے سکینت کے ساتھ اترتے ہیں اس قسم کے دکھ نبیوں اور راست بازوں کو بھی ملتے ہیں اور وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بطور ابتلا آتے