ملفوظات (جلد 6) — Page 100
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۰۰ جلد ششم ہو کہ یہ اولا د دین کی خادم ہوئے لیکن کتنے ہیں جو اولاد کے واسطے یہ دعا کرتے ہیں ہے کہ اولا د دین کی پہلوان ہو بہت ہی تھوڑے ہوں گے جو ایسا کرتے ہوں ۔ اکثر تو ایسے ہیں کہ وہ بالکل بے خبر ہیں کہ وہ کیوں اولاد کے لیے یہ کوششیں کرتے ہیں اور اکثر ہیں جو محض جانشین بنانے کے واسطے اور کوئی غرض ہوتی ہی نہیں صرف یہ خواہش ہوتی ہے کہ کوئی شریک یا غیر ان کی جائیداد کا مالک نہ بن جاوے مگر یا درکھو کہ اس طرح پر دین بالکل برباد ہو جاتا ہے۔ ۔ اولاد کی خواہش غرض اولاد کے واسطے صرف یہ خواہش ہو کہ وہ دین کی خادم ہو ۔ اسی طرح پر بیوی کرے تا کہ اس سے کثرت سے اولاد پیدا ہوا اور وہ اولا د دین کی سچی خدمت گزار ہو اور نیز جذبات نفس سے محفوظ رہے اس کے سوا جس قدر خیالات ہیں وہ خراب ہیں رحم اور تقوی مد نظر ہو تو بعض باتیں جائز ہو جاتی ہیں ۔ کے اس صورت میں اگر مال بھی چھوڑتا ہے اور جائیداد بھی اولاد کے واسطے چھوڑتا ہے تو ثواب ملتا ہے لیکن اگر صرف جانشین بنانے کا خیال ہے اور اس نیت سے سب ھم وغم رکھتا ہے تو پھر گناہ ہے۔ اس قسم کے قصور اور کسریں ہوتی ہیں جن سے تاریکی میں ایمان رہتا ہے لیکن جب ہر حرکت و سکون خدا ہی کے لیے ہو جاوے تو ایمان روشن ہو جاتا ہے اور یہی غرض ہر مسلمان مومن کی ہونی چاہیے کہ ہر کام میں اس کے خدا ہی مد نظر ہو۔ ل البدر سے ”کہ اس کے بعد اس کے حق میں دعا کرے۔“ البدر جلد ۳ نمبر ۱۱ مورخه ۱۶ / مارچ ۱۹۰۴ صفحه (۴) البدر سے۔ ”سوچ کر دیکھو کہ کتنے ایسے ہیں جو اس نیت اور ارادہ سے اولاد کی خواہش کرتے ہیں اور تہجد کے وقت اٹھ کر خدا تعالیٰ سے دعائیں مانگتے ہیں کہ اے مولا تو ایسی اولا د دے جو متقی ہو تیری راہ میں جان دینے والی ہو ۔ 66 البدر جلد ۳ نمبر ۱۱ مورخه ۱۶ مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۴) سے البدر سے ۔ رحم اور اور شفقت شہ کی نظر سے یہ نیت بھی ہوسکتی ہے کہ ان کے لیے کچھ املاک چھوڑ جاؤں تا کہ ضائع نہ ہوں اور در بدر بھیک نہ مانگتے پھریں یا افلاس سے تنگ آکر تبدیل مذہب نہ کر لیں اور اگر ان نیتوں سے باہر جاتا ہے تو دین سے باہر جاتا ہے اور ایمان کو تاریکی میں رکھ کر اس کے ثمرات اور برکات سے بے نصیب رہتا ہے۔“ البدر جلد ۳ نمبر ۱۱ مورخه ۱۶ مارچ ۱۹۰۴ صفحه (۴)