ملفوظات (جلد 6) — Page 97
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۹۷ یہ مَنْ كَانَ لِلَّهِ كَانَ اللهُ لَهُ ہی کا ترجمہ ہے۔ جب انسان خدا تعالیٰ کا ہو جاتا ہے تو پھر کچھ شک نہیں ساری دنیا اس کی ہو جاتی ہے مگر اس وقت بڑے بڑے مشکلات آکر پڑتے ہیں لوگ ہمارے سلسلہ کی مخالفت کے لیے کیا کیا کوشش نہیں کرتے ۔ اس کی عدم ضرورت کے واسطے کہہ دیتے ہیں کہ کیا ہم مسلمان نہیں ہیں؟ ہم نماز اور کلمہ نہیں پڑھتے ؟ جو لوگ اس قسم کے اعتراض کرتے ہیں وہ آخر بے نصیب رہ جاتے ہیں۔ برکات نماز کا حصول اس میں شک نہں کہ نماز میں برکات ہیں مگر وہ برکات ہر ایک کونہیں مل سکتے ۔ نماز بھی وہی پڑھتا ہے جس کو خدا تعالیٰ نماز پڑھاوے ورنہ وہ نماز نہیں نرا پوست ہے جو پڑھنے والے کے ہاتھ میں ہے اس کو مغز سے کچھ واسطہ اور تعلق ہی نہیں ۔ اسی طرح کلمہ بھی وہی پڑھتا ہے جس کو خدا تعالیٰ کلمہ پڑھوائے ۔ جب تک نماز اور کلمہ پڑھنے میں آسمانی چشمہ سے گھونٹ نہ ملے تو کیا فائدہ؟ وہ نماز جس میں حلاوت اور ذوق ہو اور خالق سے سچا تعلق قائم ہو کر پوری نیاز مندی اور خشوع کا نمونہ ہو اس کے ساتھ ہی ایک تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے جس کو پڑھنے والا فوراً محسوس کر لیتا ہے کہ اب وہ وہ نہیں رہا جو چند سال پہلے تھا۔ ابدال جب یہ تبدیلی اس کی حالت میں واقع ہوتی ہے اس وقت اس کا نام ابدال ہوتا ہے احادیث میں جوابدال آیا ہے اس سے یہی مراد لی گئی ہے کہ کامل انقطاع اور تبتل کے ساتھ جب خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کر کے اپنی حالت میں تبدیلی کرلے جیسے قیامت میں بہشتیوں میں تبدیلیاں ہوں گی کہ وہ چاند یا ستاروں کی مانند ہوں گے اسی طرح پر اسی دنیا میں بھی ان کے اندر ہونی ضروری ہے تا کہ وہ اس تبدیلی پر شہادت ہو۔ اسی لیے فرمایا ہے وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتْنِ (الرَّحْمَن : ۴۷) چونکہ اس دنیا میں بھی ایک بہشت ہے جو مومن کو دیا جاتا ہے اس کے موافق ایک تبدیلی بھی یہاں ہوتی ہے اس کو ایک خاص قسم کا رُعب دیا جاتا ہے جو الہی تجلیات کے پرتو سے ملتا ہے نفس امارہ کے جذبات سے اس کو روک دیا جاتا ہے اور نفس مطمئنہ کی