ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 95 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 95

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۹۵ جلد ششم ظاہر داری میں خوشامد کر سکتا ہے اور اس کو خوش کر سکتا ہے خواہ دل میں ان باتوں کا کچھ بھی اثر نہ ہو ایک شخص کو خیر خواہ کہہ سکتے ہیں مگر حقیقت میں معلوم نہیں ہوتا کہ وہ خیر خواہ ہے یا کیا ہے لیکن اللہ تعالیٰ تو خوب جانتا ہے کہ اس کی اطاعت و محبت کس رنگ سے ہے۔ پس اللہ تعالی کے ساتھ فریب اور دغا نہیں ہو سکتا کوئی اس کو دھوکا نہیں دے سکتا جب تک سچے اخلاص اور پوری وفاداری کے ساتھ یک رنگ ہو کر خدا تعالیٰ کا نہ بن جاوے کچھ فائدہ نہیں ۔ یا درکھو اللہ تعالیٰ کا اجتبا اور اصطفا فطرتی جو ہر سے ہوتا ہے ممکن ہے گذشتہ زندگی میں وہ کوئی صغائر یا کبائر رکھتا ہو لیکن جب اللہ تعالیٰ سے اس کا سچا تعلق ہو جاوے تو وہ کل خطائیں بخش دیتا ہے اور پھر اس کو کبھی شرمندہ نہیں کرتا نہ اس دنیا میں اور نہ آخرت میں ۔ یہ کس قدر احسان اللہ تعالیٰ کا ہے کہ جب وہ ایک دفعہ در گذر کرتا اور عفو فر ماتا ہے پھر اس کا کبھی ذکر ہی نہیں کرتا اس کی پردہ پوشی فرماتا ہے پھر باوجود ایسے احسانوں اور فضلوں کے بھی اگر وہ منافقانہ زندگی بسر کرے تو پھر سخت بد قسمتی اور شامت ہے۔ صفائی قلب برکات اور فیوض الہی کے حصول کے واسطے دل کی صفائی کی بھی بہت بڑی ضرورت ہے۔ جب تک دل صاف نہ ہو کچھ نہیں ۔ چاہیے کہ جب اللہ تعالیٰ دل پر نظر ڈالے تو اس کے کسی حصہ یا کسی گوشہ میں کوئی شعبہ نفاق کا نہ ہو۔ جب یہ حالت ہو تو پھر الہی نظر کے ساتھ تجلیات آتی ہیں اور معاملہ صاف ہو جاتا ہے۔ اس کے لیے ایسا وفادار اور صادق ہونا چاہیے جیسے ابراہیم علیہ السلام نے اپنا صدق دکھا یا یا جس طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وسلم نے نمونہ دکھا یا۔ جب انسان اس نمونہ پر قدم مارتا ہے تو وہ با برکت آدمی ہو جاتا ہے۔ پھر دنیا کی زندگی میں کوئی ذلت نہیں اٹھاتا اور نہ تنگی رزق کی مشکلات میں مبتلا ہوتا ہے بلکہ اس پر خدا تعالیٰ کے فضل واحسان کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور مستجاب الدعوات ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ اس کو وو ل البدر سے ۔ ” وہ خوب جانتا ہے کہ ہر ایک کا اندرونہ کیسا ہے۔“ البدر جلد ۳ نمبر ۱۱ مورخه ۱۶ مارچ ۱۹۰۴ ء صفحه (۳)