ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 93 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 93

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۹۳ جلد ششم مرنا عام مومنوں کے لیے تو کوئی حرج نہیں البتہ جہاں انتظام الہی میں فرق آتا ہے وہاں خدا تعالیٰ ایسا معاملہ نہیں کرتا ہے یعنی خدا تعالیٰ کا کوئی مامور ومرسل طاعون کا شکار نہیں ہو سکتا اور نہ کسی اور خبیث مرض سے ہلاک ہوتا ہے کیونکہ اس سے اللہ تعالیٰ کے انتظام میں بڑا نقص اور خلل پیدا ہوتا ہے پس انبیاء ورسل اور خدا کے ماموران امراض سے بچائے جاتے ہیں اور یہی نشان ہوتا ہے۔ کی خصوصیت پر ضمنی تذکرہ حضرت علیم الامت نے عرض کی کہ حضور یہ ایک بڑی صحابة رض رض عجیب بات ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابہ میں سے ایک بھی بہرہ نہ تھا۔ کے اس پر امام الملۃ نے فرمایا کہ چونکہ اس وقت خدا تعالیٰ کا کلام نازل ہور ہا تھا اور اس امر کی ضرورت تھی کہ صحابہ اسے سنیں اور روایت کر کے دوسروں تک پہنچائیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس نظام کو قائم رکھنے کے لیے صحابہ کو اس بہرہ پن سے محفوظ رکھا ایسے وقت اگر آنکھ نہ ہو تو کام ہو سکتا ہے لیکن کان کے بغیر کام نہیں چل سکتا ان حقائق و معارف کو جو خدا کا مرسل لے کر آتا ہے سننے کی بہت بڑی ضرورت ہوتی ہے۔ پہلے کلام کی طرف رجوع غرض یہ مقام ڈرنے کا ہے کیونکہ اعون بڑی شدت کے ساتھ پھیل رہی ہے اور جو اس وقت بھی خدا تعالیٰ کے ساتھ اپنا معاملہ صاف نہیں کرتا وہ بڑے خطرہ کی حالت میں ہے نفاق کام نہیں دے گا اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے الَّذِينَ آمَنُوا وَ لَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمُ (الانعام : (۸۳) بعض وقت انسان موجودہ حالت امن پر بھی بے خطر ہو جاتا ہے اور سمجھ لیتا ہے کہ امن میں زندگی گزارتا ہوں مگر یہ غلطی ہے کیونکہ یہ تو معلوم نہیں ہے کہ سابقہ زندگی میں کیا ہوا ہے اور کیا کیا بے اعتدالیاں اور کمزوریاں ہو چکی ہیں اس واسطے مومن کے لیے بہت ضروری ہے کہ وہ کبھی بے خوف نہ ہو اور ہر وقت تو بہ اور استغفار کرتا رہے کیونکہ استغفار سے انسان گذشتہ بدیوں کے بُرے نتائج سے بھی خدا کے فضل سے بچ رہتا ہے۔ یہ سچی ل البدر میں ہے۔ ہاں اندھے تھے (البدر جلد ۳ نمبر ۱۱ مورخه ۱۶ مارچ ۱۹۰۴ صفحه (۳)