ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 408 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 408

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۴ جلد پنجم خدا تعالیٰ کے ساتھ کسی قسم کی شرط نہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات کرنی چاہیے ۲۹۱ کے لیے اسماء میں دیکھئے زیر غلام احمد مرزا اللہ تعالیٰ کے کسی فعل پر اعتراض نہیں امت محمدیہ کرنا چاہیے ۲۰۷ خیر امم ہونے کی وجہ متفرق امت مرحومہ کہلانے کی وجہ وہ خدا جو عرصہ سے مخفی چلا آتا تھا اب نقاب منعم علیہم گروہ ۴۶ ۲۴۹ سورہ نور میں بھی وعدہ ہے کہ تمام خلیفے اور اٹھا کر چہرہ دکھا رہا ہے ۲۱۷ امام امت میں سے آئیں گے ۹ اس وقت صرف اس کی ہستی کا ثبوت کافی نہیں ہزاروں اس امت میں سے مکالمات اور بلکہ اس کی غیرت کے ثبوت کی بھی ضرورت ہے ۲۰۱ مخاطبات کے شرف سے مشرف ہوئے اور قلوب میں عظمت ڈالنی اللہ تعالیٰ کا کام ہے ۹۲ انبیاء کے خصائص ان میں موجود ہوتے الہام ( نیز دیکھئے عنوانات کشف ، وحی ) رہے ۲۶۰،۶۳ ،۵۹ الہام کی ضرورت مولویوں نے الہام کا دروازہ بندمان کرامت ایمان کے کمال تام کا ذریعہ الہامات صحیحہ اور کے اولیاء کو بنی اسرائیل کی عورتوں سے بھی پیشگوئی ہوتے ہیں پیچھے پھینک دیا ہے ۴۳ امت محمد یہ ہمیشہ الہام الہی سے مشرف امت میں مامور کی ضرورت ۴۶ ۳۶۲ سلسلہ موسوی سے مماثلت ۵۷ رہے گی ۴۶ امت میں بروز عیسوی اور بروز محمدی کا ظہور ۲۶۱ امام جعفر کا فرمانا کہ میں اس قدر کلام الہی پڑھتا اس امت کا آخری خلیفہ جو موسیٰ کے تمام ہوں کہ ساتھ ہی الہام شروع ہو جاتا ہے ۳۸۸ خلفاء کا جامع ہے ۶۶ ملهمین خدا تعالیٰ کی ہدایت اور راہنمائی سے ۶۴ ۹۸ ۱۸۲ امت محمدیہ میں امت موسوی کی طرح کثرت سے انبیاء کے نہ آنے کی وجہ اگر عیسی علیہ السلام امت محمدیہ کی اصلاح کے لیے آئیں تو اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک ہے امر امر کی دو قسمیں تشریعی اور کونی १५ ۳۳۶ ۷۵ ۲۵۵ ہر ایک امر بجالاتے ہیں الہام کے انوار الہام کا افترا کرنے والا ہلاک ہوتا ہے الہام کا نسیان منشاء الہی سے ہوتا ہے خدا تعالیٰ کے کلام میں صیغہ واحد اور جمع کے استعمال کی حکمت