ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 372 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 372

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۷۲ جلد پنجم وہ تقویٰ سے کام لیتے تو کوئی گناہ نہ تھا کہ وہ آکر ہم سے ملتے جلتے رہتے اور ہماری باتیں سنتے رہتے حالانکہ عیسائیوں اور ہندوؤں سے بھی تو ملتے ہیں اور ان کی باتیں سنتے ہیں ان کی مجلسوں میں جاتے ہیں پھر کون سا امر مانع تھا جو ہمارے پاس آنے سے انہوں نے پر ہیز کیا۔ غرض یہ بڑی ہی بد نصیبی ہے اور انسان اس کے سبب محروم ہو جاتا ہے اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا تھا كُونُوا مَعَ الصُّدِقِينَ (التوبۃ: ۱۱۹) اس میں بڑا نکتہ معرفت یہی ہے کہ چونکہ صحبت کا اثر ضرور ہوتا ہے اس لیے ایک راستباز کی صحبت میں رہ کر انسان راستبازی سیکھتا ہے اور اس کے پاس انفاس کا اندر ہی اندراثر ہونے لگتا ہے جو اس کو خدا تعالیٰ پر ایک سچا یقین اور بصیرت عطا کرتا ہے اس کی صحبت میں صدق دل سے رہ کر وہ خدا تعالیٰ کی آیات اور نشانات کو دیکھتا ہے جو ایمان کے بڑھانے کے ذریعے ہیں۔ جب انسان ایک راستباز اور صادق کے پاس بیٹھتا ہے تو صدق اس میں کام کرتا ہے لیکن جو راستبازوں کی صحبت کو چھوڑ کر بدوں اور شریروں کی صحبت کو اختیار کرتا ہے تو ان میں بدی اثر کرتی جاتی ہے۔ اسی لیے احادیث اور قرآن شریف میں صحبت بد سے پر ہیز کرنے کی تاکید اور تہدید پائی جاتی ہے اور لکھا ہے کہ جہاں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت ہوتی ہو اس مجلس سے فی الفور اٹھ جاؤ ورنہ جو اہانت سن کر نہیں اٹھتا اس کا شمار بھی ان میں ہی ہوگا۔ صادقوں اور راستبازوں کے پاس رہنے والا بھی ان میں ہی شریک ہوتا ہے اس لیے کس قدر ضرورت ہے اس امر کی کہ انسان كُونُوا مَعَ الصُّدِقِينَ کے پاک ارشاد پر عمل کرے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ اللہ تعالی ملائکہ کو دنیا میں بھیجتا ہے وہ پاک لوگوں کی مجلس میں آتے ہیں اور جب واپس جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے کہ تم نے کیا دیکھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے ایک مجلس دیکھی ہے جس میں تیرا ذکر کر رہے تھے مگر ایک شخص ان میں سے نہیں تھا تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نہیں وہ بھی ان میں ہی سے ہے کیونکہ إِنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَشْقَى جَلِيْسُهُمْ ۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ صادقوں الحکم جلد ۸ نمبر امورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۴ ء صفحه ۲ تا ۴