ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 342 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 342

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۴۲ جلد پنجم ۱۲ / دسمبر ۱۹۰۳ء إِنِّي حِمَى الرَّحْمنِ ( میں خدا کی باڑ ہوں ) فرمایا۔ الہام یہ خطاب میری طرف ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اعدا طرح طرح کے منصوبے کرتے ہوویں گے ایک شعر بھی اس مضمون کا ہے۔ ه اے آنکہ سوئے من بدویدی بصد تبر از باغبان بترس که من شاخ مشمرم حضرت مولانا نورالدین صاحب نے خدمت والا میں عرض کی کہ عزیر کے قصہ کی بابت ایک دفعہ حضور نے ارشاد فرمایا تھا کہ وہ واقعہ بعث بعد الموت میں بعث بعد الموت انہوں نے دیکھا۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ مرنے کے بعد ایک بحث ہوتا ہے جیسے کہ حدیث میں ایک شخص کا ذکر ہے کہ وہ خدا سے بہت ڈرتا تھا لیکن خدا کی قدرتوں کا اسے علم نہ تھا۔ تو اس نے وصیت کی کہ جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا اور میری خاک کو دریا میں ڈال دینا ( تا کہ میرے اجزا ایسے منتشر ہو جاویں کہ پھر جمع نہ ہو سکیں ) جب وہ مر گیا تو اس کے ورثا نے ایسا ہی کیا لیکن خدا نے اسے عالم برزخ میں پھر زندہ کیا اور پوچھا کہ کیا تو اس بات کو نہ جانتا تھا کہ ہم تیرے اجزا کو ہر ایک مقام سے جمع کر سکتے ہیں اور تجھے ہماری قدرتوں کا علم نہ تھا۔ اس نے بیان کیا کہ چونکہ مجھے اپنے گناہوں کی سزا کا خوف تھا اس لیے میں نے یہ تجویز کی تھی ۔ آخر اس خوف کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے اسے بخش دیا۔ تو یہ بھی ایک قسم کی بعثت ہے جو کہ قبل قیامت ہوتی ہے ۔ اسی خیال پر میں نے کہا ہوگا۔ مرنے کے بعد ایک ایسی حالت میں بھی انسان پڑتا ہے کہ اسے اپنے وجود کی خبر نہیں ہوتی ۔ یہ ایک نوم کی قسم سے ہوتی ہے ۔ مولوی عبد اللطیف صاحب نے جو شہادت سے اوّل یہ کہا تھا کہ چھ دن بعد زندہ ہو جاؤں گا ۔ اس کے معنے بھی یہ ہو سکتے ہیں کہ چھ دن بعد میری بعثت ہو گی ۔ یہ ہمارا ایمان ہے۔