ملفوظات (جلد 5) — Page 339
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۳۹ جلد پنجم وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ (البقرة : ۱۹۶) پس ہم خود آگ میں دیدہ دانستہ نہیں پڑتے بلکہ یہ حفاظت کا وعدہ دشمنوں کے مقابلہ پر ہے کہ اگر وہ آگ میں ہمیں جلانا چاہیں تو ہم ہرگز نہ جلیں گے۔ اس لیے میرا ایمان تو یہ ہے کہ ہمیں تکلف اور تاویل کرنے کی ضرورت نہیں ہے جیسے خدا کے باطنی تصرفات ہیں ویسے ہی ظاہری بھی ہم مانتے ہیں بلکہ اسی لیے خدا نے اوّل ہی سے الہام کر دیا ہوا ہے کہ آگ سے ہمیں مت ڈرا آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے ۔ بجز اس اس طریق کے کے کہ خدا خود خودہی ہی تجلی کرے اور کوئی دوسرا دوسرا طریق نہیں ہے ہے جس سے اس کی و ذات پر یقین کامل حاصل ہو لا تُدْرِكْهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ ( الانعام : ۱۰۴) سے بھی یہی سمجھ میں آتا ہے کہ ابصار پر وہ آپ ہی روشنی ڈالے تو ڈالے۔ ابصار کی مجال نہیں ہے کہ خودا پنی قوت سے اسے شناخت کرلیں۔ ان دنوں میں گھر میں کس قدر تکلیف رہی گھر بھر بیماری میں مبتلا تھا لیکن اس نے اول ہی تسلی دے دی تھی ع خوش باش که عاقبت نکو خواهد بود آریوں کی زبان درازیاں ہمیں کیا نقصان پہنچا سکتی ہیں ۔ ان آریوں کی خدمت اسلام کے مذہب کی حالت تو افاقہ الموت ہی معلوم ہوتی ہے۔ طبیبوں نے مانا ہے کہ ایسا ہوا کرتا ہے جب ایک شخص مرنے کے قریب ہوتا ہے بعض اوقات اُٹھ کر نے مانا ہوا کرتا ہے بیٹھ جایا کرتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ تندرست ہے مگر معاً موت آدباتی ہے۔ سوان کا شور و شر بھی ایسا ہی ہے۔ جس مذہب میں روحانیت اور خدا سے صافی تعلق نہیں ہوتا وہ بہت جلد تباہ ہو جاتا ہے۔ آریوں کی شوخی اور اس جوش و خروش سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی زبان درازیوں اور شوخیوں کا بہت جلد خاتمہ ہوگا ۔ جب موسم بہار ہوتا ہے تو بہت سے کیڑے پیدا ہوتے ہیں پھر جب ان کو پر لگتے ہیں تو وہ بہت جلد ہلاک ہو جاتے ہیں ۔ اسی طرح اب خدا کے فضل سے اسلام کے لیے موسم بہار ہے ضرور ہے کہ جب ایسے کیڑے پیدا ہوں ۔ اب ان کو پر لگ گئے ہیں پس یہ بھی تھوڑی مدت کے مہمان ہیں اور اگر ذرا اور غور سے دیکھا جاوے اور ان کی سب وشتم کو الگ کر دیا جاوے تو ایک طرح