ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 332 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 332

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۳۲ جلد پنجم یہ ایسا ہی ہوا۔ پہلی کتابوں میں حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت دوطور کی پیشگوئیاں تھیں ایک یہ کہ وہ مسکینوں اور عاجزوں کے پیرا یہ میں ظاہر ہوگا اور غیر سلطنت کے زمانہ میں آئے گا اور داؤد کی نسل سے ہوگا اور حلم اور نرمی سے کام لے گا اور نشان دکھلائے گا اور دوسری قسم کی یہ پیشگوئیاں تھیں کہ وہ بادشاہ ہوگا اور بادشاہوں کی طرح لڑے گا اور یہودیوں کو غیر سلطنت کی ماتحتی سے چھوڑا دے گا اور اس سے پہلے ایلیاء نبی دوبارہ دنیا میں آئے گا اور جب تک ایلیاء نبی دوبارہ دنیا میں نہ آوے وہ نہیں آئے گا۔ پھر جب حضرت عیسی نے ظہور فرمایا تو یہود دو فریق ہو گئے ۔ ایک فریق جو بہت ہی کم اور قلیل التعداد تھا۔ اس نے حضرت مسیح کو داؤد کی نسل سے پاکر اور پھر ان کی مسکینی اور عاجزی اور راستبازی دیکھ کر اور پھر آسمانی نشانوں کو ملاحظہ کر کے اور نیز زمانہ موجودہ کو دیکھ کر کہ وہ ایک نبی مصلح کو چاہتی ہے اور پہلی پیشگوئیوں کے قرار داد وقتوں کا مقابلہ کر کے یقین کر لیا کہ یہ وہی نبی ہے جس کا اسرائیل کی قوم کو وعدہ دیا گیا تھا۔ سو وہ حضرت مسیح پر ایمان لائے اور ان کے ساتھ ہو کر طرح طرح کے دُکھ اُٹھائے اور خدا تعالیٰ کے نزدیک اپنا صدق ظاہر کیا لیکن جو بدبختوں کا گروہ تھا اُس نے کھلی کھلی علامتوں اور نشانوں کی طرف ذرہ التفات نہ کیا۔ یہاں تک کہ زمانہ کی حالت پر بھی ایک نظر نہ ڈالی اور شریرانہ حجت بازی کے ارادے سے دوسرے حصے کو جو متشابہات کا حصہ تھا اپنے ہاتھ میں لے لیا اور نہایت گستاخی سے اس مقدس کو گالیاں دینی شروع کیں اور اس کا نام ملحد اور بے دین اور کا فر رکھا اور یہ کہا کہ یہ شخص پاک نوشتوں کے اُلٹے معنے کرتا ہے اور اس نے ناحق ایلیاہ نبی کے دوبارہ آنے کی تاویل کی ہے اور نص صریح کو اس کے ظاہر سے پھیرا ہے اور ہمارے علماء کو مکار اور ریا کا رکہتا ہے اور کتب مقدسہ کے اُلٹے معنے کرتا ہے اور نہایت شرارت سے اس بات پر زور دیا کہ نبیوں کی پیشگوئیوں کا ایک حرف بھی صادق نہیں آتا وہ نہ بادشاہ ہو کر آیا اور نہ غیر قوموں سے لڑا اور نہ ہم کو ان کے ہاتھ سے چھوڑا یا اور نہ اس سے پہلے ایلیاء نبی نازل ہوا پھر وہ مسیح موعود کیوں کر ہو گیا۔ غرض ان بد قسمت شریروں نے سچائی کے انوار اور علامات پر نظر ڈالنا نہ چاہا اور جو حصہ متشابہات کا پیشگوئیوں میں تھا اس کو ظاہر پر حمل کر کے بار بار پیش کیا۔ یہی ابتلا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم