ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 330 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 330

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۳۰ جلد پنجم خرچ کرنے اور صدقات وغیرہ کے لیے تلاش اسباب کی جائے تو حرج نہیں کیونکہ مال بھی تو ذریعہ قرب الہی ہوتا ہے مگر خدا کو بالکل چھوڑ دینا اور بالکل اسباب کا ہور ہنا یہ ایک جذام ہے اور جب تک کہ قبض روح نہ ہو جاوے اس کی خبر نہیں ہوتی ۔ خدا سے ڈرنا اور تقویٰ اختیار کرنا یہ بڑی نعمت ہے جسے ا حاصل کرنا چاہیے اور متکبر گردن کش نہ ہونا چاہیے۔ - اخلاق دو قسم کے ہوتے ہیں ایک تو وہ ہیں جو آج کل کے نو تعلیم یافتہ پیش حقیقی اخلاق کرتے ہیں کہ ملاقات وغیرہ میں زبان سے چاپلوی ی اور مداہنہ سے پیش آتے ہیں اور دلوں میں نفاق اور کینہ بھرا ہوا ہوتا ہے۔ یہ اخلاق قرآن شریف کے خلاف ہیں ۔ دوسری قسم اخلاق کی یہ ہے کہ سچی ہمدردی کرے۔ دل میں نفاق نہ ہو اور چاپلوسی اور مداہنہ وغیرہ سے کام نہ لے جیسے خدا تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَ ابْتَائِي ذِي الْقُرْبى (النحل: ٩١) تو یہ کامل طریق ہے اور ہر ایک کامل طریق اور ہدایت خدا کے کلام میں موجود ہے جو اس سے روگردانی کرتے ہیں وہ اور جگہ ہدایت نہیں پا سکتے ۔ اچھی تعلیم اپنی اثر اندازی کے لیے دل کی پاکیزگی چاہتی ہے جو لوگ اس سے دور ہیں اگر عمیق نظر سے ان کو دیکھو گے تو ان میں ضرور گند نظر آئے گا۔ زندگی کا اعتبار نہیں ہے۔ نماز ،صدق وصفا میں ترقی کرو۔ بلا تاریخ ایمان اس بات کو کہتے ہیں کہ اس حالت میں مان لینا جبکہ ابھی علم کمال تک ایمان کی حقیقت نہیں پہنچا اور شکوک اور شبہات سے ہنوز لڑائی ہے۔ پس جو شخص ایمان لاتا ہے یعنی باوجود کمزوری اور نہ مہیا ہو نے کل اسباب یقین کے اس بات کو اغلب احتمال کی وجہ سے قبول کر لیتا ہے وہ حضرت احدیت میں صادق اور راستباز شمار کیا جاتا ہے اور پھر اس کو موہبت کے طور پر معرفت تامہ حاصل ہوتی ہے اور ایمان کے بعد عرفان کا جام اس کو پلایا جاتا ہے۔ اس لیے ایک مرد البدر جلد ۲ نمبر ۴۶ مورخه ۱۸ دسمبر ۱۹۰۳ء صفحه ۳۶۲، ۳۶۳