ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 293 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 293

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۹۳ جلد پنجم برادری اور قوم کو اسے خدا کے واسطے ترک کرنا پڑتا ہے جب اس کا صدق کمال تک پہنچ جاتا ہے تو وہی ذات پاک تقاضا کرتی ہے کہ اس قدر قربانیاں جو اس نے کی ہیں وہ اس کے اعمال کے کفارہ کے لیے کافی ہوں ۔ - اہل اسلام میں اب صرف الفاظ پرستی رہ گئی ہے اور وہ انقلاب جسے خدا چاہتا ہے وہ بھول گئے ہیں اس لیے انہوں نے تو بہ کو بھی الفاظ تک محدود کر دیا ہے لیکن قرآن شریف کا منشا یہ ہے کہ نفس کی قربانی پیش کی جاوے مَنْ قَضَى نَحْبَهُ (الاحزاب: ۲۴) دلالت کرتا ہے کہ وہ تو بہ یہ ہے جو انہوں نے کی اور مَن ينتظر بتلاتا ہے کہ وہ یہ تو بہ ہے جو انہوں نے کر کے دکھلانی ہے اور وہ منتظر ہیں ۔ جب انسان خدا کی طرف بکلی آجاتا ہے اور نفس کی طرف کو بکلی چھوڑ دیتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کا دوست ہو جاتا ہے تو کیا وہ پھر دوست کو دوزخ میں ڈا دوزخ میں ڈال دے گا ؟ نَحْنُ أَوْلِيَاءُ الله سے ظاہر ہے کہ احباء کو دوزخ میں نہیں ڈالتے ۔ ۲۰ را کتوبر ۱۹۰۳ء شام کے وقت حضرت اقدس نے ذیل کی رؤیا بیان فرمائی کہ لو ایک رویا ایک بڑا تخت مربع شکل کا ہندوؤں کے درمیان بچھا ہوا ہے جس پر میں بیٹھا ہوا ہوں ایک ہندو کسی کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہے کہ کرشن جی کہاں ہیں؟ جس سے سوال کیا گیا وہ میری طرف اشارہ کر کے کہتا ہے کہ یہ ہے پھر تمام ہندو روپیہ وغیرہ نذر کے طور پر دینے لگے اتنے ہجوم میں سے ایک ہندو بولا ہے کرشن جی روڈر گو پال ( یہ ایک عرصہ دراز کی رؤیا ہے ) لے ڈائری نویس یا کا تب کی غلطی معلوم ہوتی ہے مضمون کے لحاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ غالباً حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے نَحْنُ ابْنُوا اللهِ وَاحِبَّاؤُهُ قُلْ وه قُلْ فَلِمَ يُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوبِكُمُ (المائدة : ١٩) - (المائدة: 19) سے استدلال فرمایا ہو گا کہ احباء کو دوزخ میں نہیں ڈالتے ۔ واللہ اعلم بالصواب (مرتب)