ملفوظات (جلد 5) — Page 22
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۲ جلد پنجم مگر قبل از نزول عذاب ۔ اور جب نازل ہو جاتا ہے تو ہر گز نہیں ٹلتا۔ پس تم ابھی سے استغفار کرو اور توبہ میں لگ جاؤ تا تمہاری باری ہی نہ آوے اور اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کرے۔ ۶ را پریل ۱۹۰۳ء (مجلس قبل از عشاء) فرمایا کہ ہمارے دوستوں کو بعض وقت دعا کے متعلق ابتلا پیش آجاتے ہیں اس حقیقت دعا لیے مناسب معلوم ہوا کہ ان کو دعا کی حقیقت سے اطلاع دی جاوے سے اور اسی لیے میں نے حقیقت الدعا کے نام سے ایک رسالہ لکھنا شروع کیا ہے مگر چونکہ طبیعت علیل رہی ہے اس لیے ختم نہیں کر سکا۔ ایک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تمام مدار دعا پر ہی تھا اور ہر ایک مشکل میں آپ دعا کرتے تھے۔ روایت سے ثابت ہے کہ آپ کے گیارہ لڑکے فوت ہو گئے ہیں تو کیا آپ نے ان کے حق میں دعا نہ کی ہوگی ؟ آج کل ایک عام غلط نہی لوگوں کے دلوں میں پڑ گئی ہے اور یہ اس جہالت کے زمانے کی نشانی ہے اکثر لوگ کہا کرتے ہیں کہ فلاں بزرگ ، فلاں اولیاء کی ایک پھونک مارنے سے صاحب کمال ہو گیا اور فلاں کے ہاتھ سے مردے زندے ہوئے ۔ چند ایک احباب نے جو کہ گوجرانوالہ کے ضلع سے حضرت اقدس کی ملاقات کے واسطے بیعت اور توبہ تشریف لائے تھے آپ سے ملاقات کی ۔ ان سب نے بیعت کی ۔ بعد بیعت ان کو حضرت اقدس نے نصیحت فرمائی ۔ بیعت میں انسان زبان کے ساتھ گناہ سے توبہ کا اقرار کرتا۔ ھ گناہ سے توبہ کا اقرار کرتا ہے مگر اس طرح ۔ سے اس کا اقرار جائز نہیں ہوتا جب تک دل سے وہ اس اقرار کو نہ کرے۔ یہ خدا تعالیٰ کا بڑا فضل اور احسان ہے کہ سے کا بر اور جب سچے دل سے توبہ کی جاتی ہے تو وہ اسے قبول کر لیتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ (البقرۃ: ۱۸۷) یعنی میں تو بہ کرنے والے کی توبہ قبول کرتا ہوں۔ خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ اس اقرار ل البدر جلد ۲ نمبر ۱۴ مورخه ۲۴ را پریل ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۰۶